.

امن کے واسطے کسی بھی فریق کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں: عمر البشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی صدر عمر البشیر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی تحویل میں موجود تمام گرفتار صحافیوں کو رہا کیا جائے گا اور صحافت اور ذرائع ابلاغ سے متعلق تمام معاملات کو حل کیا جائے گا۔

البشیر نے یہ بات بدھ کے شام میڈیا کے اداروں کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ البشیر کے مطابق وہ ملک کے لیے ایک مستقل آئین کا مسودہ تیار کرنے کے سلسلے میں ایک کمیٹی بنانے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس کمیٹی کی سربراہ ایسی قومی شخصیت ہو گی جو تمام لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سوڈانی سرکاری خبر رساں ایجنسی سونا کے مطابق البشیر کا کہنا تھا کہ امن کو یقینی بنانے اور ملک کو سیاسی اور اقتصادی بحرانات سے نکالنے کے لیے تمام لوگوں کے واسطے بات چیت کا دروازہ کھلا ہے۔

سوڈانی صدر نے واضح کیا کہ ریاست صحافت کی صنعت سے متعلق تمام درآمدات پر ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طاقت ور صحافتی اداروں کی ضرورت ہے جو ملکی معاملات کے کام آئیں۔

البشیر نے مزید کہا کہ حکومت نے پائیدار امن اور قومی موافقت تک پہنچنے کے لیے مکالمے کا فارمولا اختیار کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عام نظام کے قوانین پر نظر ثانی اور اس کے نفاذ میں موجود منفی امور کی درستی کی ضرورت ہے۔ البشیر کے مطابق نوجوانوں کے معاملات حل کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے اور نوجوانوں کا یہ حق ہے کہ ان کے خواب شرمندہ تعبیر ہوں۔

سوڈانی صدر نے واضح کیا کہ ریاست ملکی وسائل سے فائدہ اٹھا کر قومی معیشت میں دوبارہ سے توازن لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی برآمد کے آغاز کے بعد سے تعلیم، صحت اور سڑکوں کے میدان میں خدمات کا دائرہ وسیع کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔