.

انقلابِ ایران کے بعد 30 سال میں صرف تہران میں 17 لاکھ افراد جیل ڈال دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں قائم میڈیا ایڈووکیسی گروپ صحافیان ِ ماورائے سرحد ( رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز) نے کہا ہے کہ ایران میں 1979ء میں برپا شدہ انقلاب کے بعد 30 سال کے دوران میں صرف دارالحکومت تہران میں سترہ لاکھ افراد کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور ان میں سے متعدد کو موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

تنظیم نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پس ِ دیوارِ زنداں کیے گئے ان افراد میں ایرانی نظام کے مخالفین ، بہائی مذہب کے پیروکار اور دوسری اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ۔ ان کے علاوہ اس عرصے کے دوران میں 860 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس نے کہا ہے کہ ایران میں گرفتار شدگان اور جیلوں میں ڈالے گئے افراد کے یہ اعداد وشمار عدالتی کارروائیوں کی ایک خفیہ فائل پر مبنی ہیں۔

اس فائل میں قریباً سترہ لاکھ افراد کے خلاف عدالتی کارروائیوں کی تفصیل درج ہے۔ان میں کم سن بچے بھی شامل تھے ۔انھیں ایران کے سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد نئی اسلامی حکومت کے پہلے تین عشروں کے دورِ اقتدار میں تہران کی ایوین جیل میں قید کیا گیا تھا۔