.

ترکی کے سب سے بڑے بینک میں "اتاترک کا حصّہ" ایردوآن کا ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے بینکس گزشتہ سال اگست سے اُن ڈوبے ہوئے قرضوں کے حصول میں ناکام رہے ہیں جن کی ضمانت حکومت نے دی تھی۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق "لون گارنٹی فنڈ" نے واضح کیا ہے کہ رقم کی واپسی ان کمپنیوں تک محدود رہے گی جنہوں نے اپنے آپریشن کے ڈھانچے کی از سر نو تشکیل سے انکار کر دیا ہے۔

ادھر ترکی کے صدر کی جانب سے ملک کی معیشت پر گرفت مضبوط کرنے کے سبب سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین اعلان میں رجب طیب ایردوآن Isbank میں ریپبلکن پیپلز پارٹی (حزب اختلاف) کے حصے کو حکومت کے خزانے میں منتقل کرنے پر مصر نظر آتے ہیں۔

ترکی میں مارچ میں مقامی انتخابات کا وقت قریب آنے کے ساتھ ہی ایردوآن نے اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ سب سے بڑے بینک پر حکومتی کنٹرول مضبوط بنانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔

ایردوآن نے پارلیمنٹ میں رائے شماری کا مطالبہ کیا ہے تا کہ اپوزیشن کی ریپبلکن پیپلز پارٹی کو IsBank میں اس کے حصے (28%) سے محروم کر کے اسے قومی خزانے کے حوالے کیا جا سکے۔

بینک میں مذکورہ حصّہ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کی ذاتی ملکیت تھا۔ اتاترک نے وصیت کی تھی کہ ان کی وفات کے بعد یہ حصہ ان کی پارٹی کو منتقل کر دیا جائے۔

اگرچہ ریپبلکن پیپلز پارٹی بینک کی جانب سے تقسیم کیے جانے والے منافع میں سے کچھ حاصل نہیں کرتی اس کے باوجود ایردوآن پارٹی پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اتاترک کی یادگار سے "ناجائز فائدہ" اٹھا رہی ہے۔ ایردوآن کے نزدیک ماضی میں ترک ریاست کے بانی کی ملکیت اب کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں ہونا چاہیے۔

بینک میں 40% حصّہpension fund Isbank کا ہے جس کی مارکیٹ ویلیو 4.7 ارب ڈالر ہے۔ علاوہ ازیں 32% حصّہ فری فلوٹ ہے جس میں 70 فی صد کے مالک غیر ملکی سرمایہ کار ہیں۔

مبصرین کے نزدیک ایردوآن ملک کے مالیاتی نظام پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں بالخصوص مرکزی بینک کی پالیسیوں میں اعلانیہ مداخلت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ مداخلت گزشتہ برس ترک کرنسی لیرا کی گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں سے ہے۔

بینکاروں کو اندیشہ ہے کہ ایردوآن کی مداخلتوں سےIsbank کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچے گا کیوں کہ ترکی کے صدر بینک کو اپنے سیاسی آلات کار کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔