.

تیونس : ہزاروں اساتذہ کی حالاتِ کار بہتر بنانے کے لیے احتجاجی مظاہروں کے بعد ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں ہزاروں اساتذہ نے حالاتِ کار بہتر بنانے کے لیے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کردی ہے جس سے ملک بھر میں اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئی ہیں۔انھوں نے دارالحکومت تیونس کی شاہراہوں پر احتجاجی ریلی نکالی ہے اور حکومت سے مطالبات پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تیونسی اساتذہ گذشتہ کئی ماہ سے حکومت سے بونس دینے اور ریٹائرمنٹ کی میعاد کم کرنے کے لیے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔وہ حکومت سے تعلیمی اداروں میں حالات کار بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں اور بدھ سے انھوں نے عام ہڑتال شروع کردی ہے۔

اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے دوسرے عملہ نے تیونس کی طاقت ور یو جی ٹی ٹی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کی اپیل پر یہ ہڑتال کی ہے۔انھوں نے دارالحکومت تیونس کے وسط میں جمع ہو کر سخت احتجاج کیا ۔ وہ وزیر تعلیم حاتم بن سالم کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔

وزیر تعلیم سالم اور تیونس کی سیکنڈری اسکول ٹیچرز یونین کے سیکریٹری جنرل الاسد یعقوبی کے مابین 2017ء سے تنازعہ چلا آرہا ہے اور اب اکتوبر سے جاری ہڑتال سے اس میں مزید شدت آئی ہے۔ اساتذہ ہڑتال کی وجہ سے اسکولوں میں طلبہ سے پہلی ٹرم کا امتحان بھی نہیں لےسکے ہیں۔طلبہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان کا ا متحان نہیں ہوتا تو ان کا تعلیمی سال ضائع چلا جائے گا۔

الاسد یعقوبی نے کہا ہے کہ ’’ ہم حکومت سے سنجیدہ مذاکرات اور سمجھوتے پر دست خط کرنے کو تیار ہیں۔اگر طلبہ کا سال ضائع ہوتا ہے تو اس کی ذمے دار حکومت ہی ہوگی‘‘۔