.

دہشت گردوں کو تحفظ دینے والے کسی بھی سیف زون کے خلاف ہیں : ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کا کہنا ہے کہ شام کے قصبے منبج کے حوالے سے انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے پر عمل درامد کے لیے کام تیز ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے جنگجو ابھی تک منبج میں موجود ہیں۔

ترک وزیر خارجہ کا یہ بیان واشنگٹن میں بدھ کے روز داعش کے خلاف برسرجنگ بین الاقوامی اتحاد کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔

اوگلو نے ایک بار پھر یہ موقف دہرایا کہ انقرہ شام میں ایسے کسی بھی سیف زون کی مخالفت کرے گا جہاں "دہشت گردوں" کو تحفظ حاصل ہو۔

اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ "اگر چند ہفتوں کے اندر منبج سے دہشت گردوں کو نہ نکالا گیا تو ہمارے انتظار کی مدت ختم ہو جائے گی"۔

منبج میں عرب، کرد اور بعض اقلیتوں پر مشتمل مخلوط آبادی ہے۔ اسے شام کی اراضی پر تین بین الاقوامی اور علاقائی قوتوں امریکا، روس اور ترکی کے نفوذ کا سنگم شمار کیا جاتا ہے۔

اس وقت قصبے پر "منبج عسکری کونسل" کا کنٹرول ہے۔ مقامی افراد پر مشتمل یہ گروپ ترکی کی پیروی نہیں کرتا۔ اس میں کئی عسکریت پسند جماعتیں ہیں جو شامی حکومت کے خلاف لڑ رہی تھیں مگر پھر 2016 میں منبج کو داعش سے آزاد کرانے کے معرکے کے دوران ان جماعتوں نے "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" کے ساتھ کوآرڈی نیشن کر لی۔ اس امر نے ترکی کے اندیشوں کو بڑھا دیا کہ منبج پر کردوں کو مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔