.

ایران نے امریکا کی تنقید کے باوجود سیٹلائٹ خلا میں چھوڑ دیا؟ تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا کی تنقید کے باوجود دوسری مرتبہ سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کی کوشش کی ہے۔ایران کے خلائی سیارہ چھوڑنے کی تصاویر امریکا سے جاری کی گئی ہیں لیکن خود اس نے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

امریکی ریاست کولوراڈو میں قائم کمپنی ڈیجیٹل گلوب نے یہ تصاویر جاری کی ہیں۔ منگل کو جاری کردہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے صوبے سمنعان میں واقع امام خمینی خلائی مرکز سے ایک راکٹ چھوڑا گیا ہے ۔ بدھ کو جاری کردہ تصاویر میں راکٹ دھواں چھوڑتے ہوئے خلا میں جارہا ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ چھوڑا گیا سیٹلائٹ مدار میں پہنچ گیا ہے یا نہیں ۔

تصاویر میں لانچ پیڈ پر فارسی میں لکھے ’’ 40 سال ‘‘ اور ’’ ایرانی ساختہ‘‘ کے الفاظ بھی نظر آرہے ہیں۔اس سے مراد ایران میں انقلاب کی چالیسویں سالگرہ ہے اور یہ اسی ماہ منائی جارہی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی فوری طور پر اس راکٹ کو چھوڑنے کی اطلاع نہیں دی ہے۔قبل ازیں ایران نے ’دوستی سیارہ‘ چھوڑنے کا اعلا ن کیا تھا۔اس نے جنوری میں پیام کے نام سے سیارہ خلا میں چھوڑا تھا لیکن وہ مدار میں داخل ہونے میں ناکام رہا تھا۔

ڈیجیٹل گلوب کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے ’سفیر راکٹ‘ کو سیٹلائٹ کو چھوڑنے کے لیے استعمال کیا ہے ۔جنوری میں ایرانی انجنیئروں نے فونیکس راکٹ استعمال کیا تھا۔دوستی سیارے کو تہران کی شریف یونیورسٹی برائے ٹیکنالوجی کے انجنیئروں نے تیار کیا ہے۔اس کو مدار کی نچلی سطح پر چھوڑنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔

امریکا ایران کے خلائی پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنا تا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس سے ایران کو بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں مدد مل رہی ہے۔اس نے ایران پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے ۔ اس قرارداد کے تحت ایران پر جوہری ہتھیار ہدف تک لے جانے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائلوں کے تجربات پر پابندی عاید کی گئی ہے۔تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کے راکٹوں کے تجربات اور خلائی سیارے چھوڑنے کا عمل فوجی نوعیت کا نہیں ہے اور یہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی بھی خلاف ورزی نہیں ہے۔