برطانیہ میں‌ جوان بچے والدین کے گھروں میں رہنے پر کیوں‌ مجبور ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں جہاں سماجی طور پر مشترکہ خاندانی سسٹم رائج نہیں وہاں جوان بچوں کی ایک بڑی تعداد والدین کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اسی سوال کا جواب تلاش کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں شہریوں کو رہائش کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ الگ مکانات کی عدم دستیابی ہی جوان اولاد کو والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 1998ء سے 2017ء کے درمیان 20 سے 34 سال کی عمر کے جوانوں کے والدین کے ساتھ رہنے کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں ایسے نوجوانوں کی تعداد 20 لاکھ 40 ہزار سے 3 لاکھ 40 ہزار کے درمیان ہے۔

برطانیہ کروس پارٹی کے مطابق مملکت میں نوجوانوں کی تعداد 19 اعشاریہ 48 سے بڑھ کر 25 اعشاریہ 91 فی صد تک جا پہنچی ہے۔

لویڈز بنک کی رپورٹ کے مطابق سال 2018ء کے اندازوں کے مطابق مُملکت میں مکان کی قیمت اوسط آمدنی سے 7 اعشاریہ 2 فی صد زیادہ ہے جبکہ سال 2007ء میں کم قیمت میں آسانی کے ساتھ مکانات مل جاتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 25 سے 44 سال کی درمیانی عمر کے افراد کا الگ رہنے کے رحجان میں کمی آئی ہے۔ سنہ 2002ء میں الگ تھلگ رہنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ80 ہزار تی اور سال 2017ء کے دوران یہ تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 30 ہزار تک آگئی ہے۔

مشترکہ گھروں میں رہنے کے رحجان میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ گھروں کی قلت اور مکان کی قوت خرید کی صلاحیت کا نہ ہونا ہے۔

برطانیہ کی سیفیٹس کمپنی کے ڈائریکٹر ڈینیل پنٹلی کا کہنا ہے کہ مملکت میں رہائشی سہولیات کا بحران تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور خاندان کی معاشی تشکیل نو کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں