تھائی لینڈ کے بادشاہ کی ہمشیرہ بھی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تھائی لینڈ کے بادشاہ کی سب سے بڑی بہن بھی ملک کے آئندہ وزیرِ اعظم کے لیے انتخابی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں۔ روایتی طور پر تھائی لینڈ کا شاہی خاندان سیاست سے باہر ہی رہا ہے اس لیے یہ ایک غیر متوقع عمل ہے۔

تھائی لینڈ میں انتخابات 24 مارچ کو ہونے ہیں۔ رجسٹریشن کاغذات کے مطابق 67 سالہ شہزادی ابولرتانا ماہیڈول تھائی رسکا چارٹ پارٹی کی جانب سے امیدوار ہوں گی۔ یہ وہی جماعت ہے جسے سابق وزیر اعظم تھاکسن شناواترے کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

رسکا چارٹ پارٹی کے رہنما پریچپول پونگپانیچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’پارٹی نے شہزادی ابولرتانا کے نام پر اتفاق کیا ہے جو کہ تعلیم یافتہ اور ماہر شخصیت ہیں اور وزیر اعظم کے عہدے کے لیے موزوں بھی۔‘

تھائی لینڈ کی سیاست میں حالیہ برسوں میں کئی انوکھے واقعات پیش آئے ہیں لیکن شہزادی بولرتانا کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بننا یقیناً ان میں سب سے عجیب سمجھا جا رہا ہے۔

شہزادی بولرتانا ماہیڈول سنہ 1951 میں پیدا ہوئیں اور وہ شاہی خاندان کی سب سے بڑے اولاد ہیں۔

سنہ 1972 میں ایک امریکی سے شادی کرنے کے بعد انھوں نے اپنا شاہی لقب چھوڑ دیا اور امریکا منتقل ہو گئی تھیں۔

طلاق کے بعد وہ واپس تھائی لینڈ لوٹ آئیں اور پھر سے شاہی زندگی میں شرکت کرنا شروع کر دی۔

انھیں تھائی شاہی خاندان کی سب سے رنگین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں میں پھرپور شرکت کرتی ہیں اور کئی تھائی فلموں میں اداکاری بھی کر چکی ہیں۔

ان کے تین بچے ہیں جن میں سے ایک سنہ 2004 کی سونامی میں ہلاک ہو گیا جبکہ دو حیات ہیں اور امریکا میں مقیم ہیں۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شاہی خاندان میں وہ سب سے زیادہ عوامی رویہ رکھتی ہیں اور ان سے رابطہ رکھنا سب سے آسان ہے۔

ان کے اپنے بھائی اور ملک کے بادشاہ سے تعلقات کی نوعیت عام نہیں ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ ان کے سیاست میں آنے کے فیصلے پر بادشاہ کا کیا ردعمل ہے۔

اس پیش رفت سے ملک میں سیاسی امیدواروں کے مستقبل کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے ہیں اور چہ مگوئیاں کی جا رہیں ہیں کہ کیا کوئی بھی شاہی خاندان کے مقابلے میں انتخاب نہیں لڑے گا۔

ملک کے موجودہ وزیرِ اعظم پرایوتھ چان اوچا نے بھی جمعے کو اعلان کیا کہ وہ بھی آئندہ انتخابات میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے امیدوار ہوں گے۔ اس کے علاوہ سنہ 2014 میں فوجی بغاوت کر کے اقتدار پر قبضے کرنے والے فوجی سربراہ بھی فوج کی حمایت یافتہ پالانگ پراچارت پارٹی کی جانب سے وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے امیدوار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں