.

الجزائر: عبدالعزیز بوتفلیقہ پانچویں مدتِ صدارت کے لیے حکمراں جماعت کے امیدوار نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کی حکمراں جماعت جبھ التحرير الوطنی ( ایف ایل این )نے 82 سالہ علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو 18اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے۔وہ خود آیندہ چند روز میں الجزائری عوام کے نام ایک خط کے ذریعے پانچویں مدتِ صدارت کے لیے امیدوار ہونے کا اعلان کریں گے۔

ایف ایل این کے سربراہ معاذ بوشارب نے ہفتے کے روز دارالحکومت الجزائر میں حکمراں جماعت کے ایک اجتماع میں کہا ہے کہ ’’ ہم نے صدر بوتفلیقہ کو اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنا امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب ہمیں ان کی مہم کے لیے تیار رہنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’ ہمیں ( ملک میں) تسلسل اور استحکام کی ضرورت ہے اور اسی لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے‘‘۔

ان سے قبل الجزائری وزیراعظم احمد او یحییٰ نے گذشتہ ہفتے کے روز ایک نیوز کانفرنس میں اپنے اس ’’ مضبوط یقین‘‘ کا اظہار کیا تھا کہ ’’ بوتفلیقہ اپنی خرابیِ صحت کے باوجود بہترین امیدوار ہیں‘‘۔الجزائری صدر دل کا دورہ پڑنے کے بعد سے جزوی طور پر معذور ہوچکے ہیں اور وہ بہت کم عوام میں نظر آتے ہیں۔

اب تک دو اور امیدواروں سابق وزیراعظم علی بن فلیس اور ریٹائرڈ جنرل علی غدیری نے بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

بوتفلیقہ گذشتہ قریباً بیس سال سے الجزائر کے حکمراں چلے آرہے ہیں اور وہ اب بھی عوام میں مقبول ہیں۔وہ پہلی مرتبہ 1999ء میں الجزائر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ 71 فی صد ووٹ لے کرصدر منتخب ہوئے تھے۔وہ 2014ء میں چوتھی مرتبہ 81.53 فی صد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے قریب ترین حریف علی بن فلیس رہے تھے۔ان کے حق میں صرف 12.18 فی صد ووٹ ڈالے گئے تھے۔

الجزائری صدر عارضہ قلب میں مبتلا ہیں ۔ وہ 2013ء میں مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھے۔ تب وطن واپسی کے بعد سے کم کم ہی نظر آئے ہیں۔گذشتہ صدارتی انتخابات میں ان کی مہم بھی ان کے حامیوں نے چلائی تھی۔خرابیِ صحت کی بنا پر وہ الجزائر کے دورے پر آنے والے عالمی لیڈرو ں سے ملاقاتیں بھی نہیں کرتے ہیں۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ فرانس سے الجزائر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں حصہ لینے والے قائدین کی نسل سے ہیں ۔الجزائری لیڈروں کی یہی نسل 1960ء کی دہائی سے ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے ۔وہ اپنی علالت کے باوجود الجزائری عوام میں مقبول ہیں۔ انھوں نے ملک کو نوّے کی عشرے میں خونریز خانہ جنگی سے نکالنے کے بعد ترقی کی راہ پر ڈالنے میں اہم کردار کیا ہے۔ انھوں نے اسلام پسندوں کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کر لیا تھا جس سے ملک میں بتدریج استحکام آیا تھا اور اسی کی بدولت الجزائر عرب بہاریہ تحریکوں کے مضر اثرات سے محفوظ رہا تھا۔