.

ترکی : استنبول میں عمارت منہدم ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی

حکام کو عمارت کے انہدام کے واقعے سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے: صدر طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سب سے بڑی شہر استنبول میں ایک اپارٹمنٹ عمارت منہدم ہونے سے مرنے والوں کی تعداد اکیس ہوگئی ہے جبکہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ حکام کو اس واقعے سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

استنبول کے ایشیائی حصے میں واقع علاقے کارتل میں ایک آٹھ منزلہ بلاک بدھ کو منہدم ہوگیا تھا لیکن اس کے اچانک ڈھے پڑنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہے۔صدر ایرد وآن نے ہفتے کے روز جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’ ہمیں اس واقعے سے بہت زیادہ سبق سیکھنے کی ضرور ت ہے۔ہم( مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے‘‘۔

دریں اثناء ترک وزیر داخلہ سلیمان سوئلو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت منہدم ہونے سے مرنے والوں کی تعداد اکیس ہوگئی ہے اور چودہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارے تخمینے کے مطابق عمارت کے ملبے تلے پینتیس افراد دب کر رہ گئے تھے اور ہم نے ان تمام کو شمار کر لیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے ملبے کی جگہ پر تلاشی کی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ ترک صدر نے ایک اسپتال کا بھی دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی ہے۔انھوں نے اس واقعے میں جان کی بازی ہار جانے والے ایک ہی خاندان کے نو افراد کی نمازجنازہ میں بھی شرکت کی ہے۔

منہدم عمارت کا ملبہ اٹھانے کے لیے بھاری مشینوں سے امدادی کارروائی جاری ہے اور جائے وقوعہ سے کنکریٹ کے بھاری بلاک ہٹائے جارہے ہیں۔

ترک حکام نے آج تیسری مرتبہ ہلاکتوں کے نئے اعداد وشمار جاری کیے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس تباہ شدہ عمارت میں تینتالیس افراد رہ رہے تھے۔ ترکی کے وزیر ماحولیات مراد کرم نے بتایا ہے کہ اس بلاک میں چودہ اپارٹمنٹ اور تین دکانیں تھیں ۔

ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ اس آٹھ منزلہ عمارت کی تین منزلیں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔ استنبول میں اس طرح کی غیر قانونی تعمیرات عام ہیں۔اس عمارت کے منہدم ہونے کے بعد سے حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔اس نے گذشتہ سال آیندہ ماہ مارچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر اس طرح کی قانونی عمارتوں کو برقرار رکھنے کے لیے استثناء دے دیا تھا۔