.

یمن 2019ء میں 75 ہزار بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے کا خواہاں

2018ء میں تیل کی اوسطاً یومیہ پیداوار صرف 50 ہزار بیرل میں سے بہت تھوڑی مقداربرآمد کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر تیل نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ 2019ء میں ان کے ملک کی تیل کی یومیہ پیداوار بڑھ کر ایک لاکھ 10 ہزار بیرل ہوجائے گی اور اس کی تیل کی برآمدات بڑھ کر 75 ہزار بیرل یومیہ ہوجائیں گی۔

یمنی وزیر تیل اوس عبداللہ العواد نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ ہم چار بلاکوں سے تیل کی پیدوار کو جاری رکھیں گے اور بحیرۂ عرب تک ایک پائپ لائن بچھانے کی بھی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔پھر اسی کے ذریعے ان بلاکوں کی پیداوار کو برآمد کیا جاسکے گا‘‘۔

جنگ زدہ جزیرہ نما یمن میں 2018ء میں تیل کی اوسطاً یومیہ پیداوار 50 ہزار بیرل رہی تھی جبکہ 2014ء میں حوثی ملیشیا کی مسلح بغاوت سے قبل یہ یومیہ پیدوار ایک لاکھ 27 ہزار بیرل تھی۔ گذشتہ سال یمن نے اپنی پیداوار کی بہت کم مقدار برآمد کی تھی۔امریکا کی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ ( ای آئی اے) کے مطابق یمن کے تیل کے معلوم ذخائر تین ارب بیرل کے لگ بھگ ہیں۔

وزیر تیل کا کہنا تھا کہ یمن مائع قدرتی گیس ( ایل این جی ) کی پیداوار کی بحالی بھی چاہتا ہے۔یمن نے حوثی ملیشیا کی بغاوت اور پھر خانہ جنگی کے بعد ایل این جی کی پیداوار معطل کردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ ہمارا ملک گذشتہ تین سال کے دوران میں جنگ سے متاثرہ ہوا ہے لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ معاملات بہتر ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ 2019ء یمن کے لیے ایک اہم سال ثابت ہوگا‘‘۔اوس عواد نے پیشین گوئی کی ہے کہ رواں سال کے دوران میں ایل این جی کی پیداوار بڑھ کر 67 لاکھ ٹن ہوجائے گی اور اس میں سے نصف مقدار کو برآمد کردیا جائے گا۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ 2020 ء میں ہم اپنی ایل این جی کی تمام پیداوار کو برآمد کرسکیں گے اور اس میں سے زیادہ تر پیداوار ایشیا میں صارفین کو فروخت کی جائے گی۔انھوں نے بتایا ہے کہ ٹوٹل ، امریکا میں قائم کمپنی ہنٹ آئل اور کوریا کی کمپنیاں ایل این جی کے منصوبے پر کام کررہی ہیں۔