.

"میں کم کارڈیشین کی طرح مشہور نہیں، مجھے بولنے دیا جائے"

ٹرمپ کے مشیر کا روسی مداخلت کے کیس پر عدالت میں بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر راجر اسٹون نے وفاقی عدالت کی ایک خاتون جج سے کہا ہے کہ اسے سنہ 2016ء کے صدارتی انتخابات کے دوران روس کی طرف سے مداخلت کے معاملے پر بات کرنے سے نہ روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ٹی وی سٹار کیم کارڈیشین کی طرح کوئی معروف شخصیت نہیں کہ مجھے بات کرنے کی اجازت دینے کے لیے باقاعدہ فیصلہ صادر کرنا پڑے۔

اسٹون نے اپنے وکلاء دفاع کے ذریعے خاتون جج ایمی برمان جیکسن کو درخواست دی جس میں کہا گیا ہے کہ دستور میں موجود آزادی اظہار رائے اسے بولنے کا حق دیتا ہے۔ اگر اس کی بات مقدمہ کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ نہ ہو اوربات سے کوئی خطرہ بھی نہ ہو تو مجھے بولنے کا حق ملنا چاہیے۔

خیال رہےکہ ٹرمپ کے مشیر پر کانگریس میں روسی مداخلت سے متعلق معلومات کو غلط انداز میں پیش کرنے، اصل معلومات چھپانے اور گواہوں پر اثرانداز ہونے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ اسٹون پر یہ الزام سنہ 2016ء میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیق کرنے والے رابرٹ مولر کی تحقیقات کو غیر موثر کرنے کے حوالے سے عاید کیا گیا ہے۔

66 سالہ اسٹون گذشتہ ماہ متعدد بار میڈیا میں سامنے آئے۔'رائیٹرز' کو دیے گئے انٹرویو میں ایک انہوں نے اپنے اوپر عاید کردہ الزامات کو بے معنی قراردیا اور کہا کہ من گھڑت باتوں سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔