ایران کی دہشت گردی ختم کرنے کے لیے اس کا محاصرہ کیا جائے : کینتھ ٹیمرمین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

معروف امریکی لکھاری کینتھ ٹیمرمین نے ایرانی نظام کے محاصرے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر بزور طاقت دباؤ بڑھایا جانا چاہیے تا کہ تہران کی جانب سے دشمنانہ برتاؤ اور امریکا اور دنیا کے ممالک کے خلاف دہشت گرد جماعتوں کی مسلسل سپورٹ کا اختتام ہو سکے جس کی تاریخ 40 برسوں پر پھیلی ہوئی ہے۔

کینتھ ٹیمرمین وہ لکھاری ہیں جن کی ایران کے حوالے سے تصنیفات 2010 سے 2016 کے درمیانی عرصے میں سب سے زیادہ فروخت ہوئیں۔ انہیں ایران کے حوالے سے کام کرنے پر 2006 میں امریکی سفیر جون بولٹن کے ساتھ امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

امریکی چینل "فوکس نيوز" نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر اپنے مضمون میں ٹیمرمین نے کہا کہ "ایران کی جنگ کا اعلان امریکا نے نہیں کیا بلکہ یہ اس پر مسلط کی گئی ہے۔ یہ اسی طرح کی جنگ ہے جس کا سامنا ہمیں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے ہے۔ اس جنگ کا اعلان دوسروں نے کیا"۔

ٹیمرمین نے اس امر کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ امریکا نے 4 نومبر 1979 کے بعد ایرانی نظام کے خلاف کوئی سرزنش کے اقدامات نہیں کیے جب خمینی کے ہمنوا بنیاد پرستوں نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے وہاں موجود سفارت کاروں کو 444 روز تک یرغمال بنا لیا تھا۔

اس کے بعد 18 اپریل 1983 کو ایک خود کش حملہ آور نے گولہ بارود سے بھرا ٹرک لبنان کے دارالحکومت بیروت میں امریکی سفارت خانے سے ٹکرا دیا۔ اس کے نتیجے میں 63 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں 17 امریکی تھے۔ امریکی حکومت نے اس وقت یہ تعین نہیں کیا کہ حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے جب کہ اب ہم جان چکے ہیں کہ یہ کارروائی ایران کی تھی۔

اسی طرح 23 اکتوبر 1983 کو ایران کے حکم سے بیروت میں گولہ بارود سے بھرے ٹرک کے دھماکے نے 241 امریکی میرینز اور فرانس کی امن فوج کے 58 اہل کاروں کی جان لے لی۔

امریکی لکھاری نے باور کرایا کہ "ایرانی نظام نے کئی برسوں تک سینئر دہشت گرد عماد فائز مغنیہ کے ذریعے امریکیوں اور امریکی طیاروں کے اغوا کے علاوہ امریکی سفارت خانوں کو دھماکوں کا نشانہ بنایا جب کہ ہم نے کچھ نہیں کیا"۔

ٹیمرمین نے 11 ستمبر 2001 کو حملہ کرنے والے القاعدہ عناصر کی آمد ورفت کو آسان بنانے کے لیے ایران کے کردار پر روشنی ڈالی۔ امریکا کی عدالت نے کچھ عرصہ قبل ایران کو حکم دیا تھا کہ ان حملوں کا نشانہ بننے والوں کے لیے بطور ہرجانہ 18 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم ادا کرے۔

ٹیمرمین کے مطابق ایران نے عراق میں میدان جنگ میں بھی امریکی فوجیوں کو دھماکا خیز آلات کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں 1000 سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ علاوہ ازیں شام میں بھی امریکی فوجیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا"۔

ٹیمرمین نے امریکیوں کے جنگوں سے تھک جانے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اس جنگ کو جیتنے کے لیے ایک حکمت عملی ہونا چاہیے اور اسے حتمی طور پر اختتام پذیر ہونا چاہیے"۔

سب سے پہلے شام کے راستے اسرائیل کی شمالی سرحد تک "زمینی پُل" کو منقطع کر کے ایران پر عسکری دباؤ ڈالا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں شام کے جنوب مشرق میں التنف میں امریکی اڈے کی سپورٹ جاری رکھی جائے۔

دوسرے نمبر پر عراق پر ایران کی گرفت کو ڈھیلا کیا جائے۔ اس کے لیے عراقی حکومت کو قائل کیا جائے کہ وہ ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کو تحلیل کرے جو ہتھیاروں اور عسکری مواد کو عراقی سرزمین کے راستے شام منتقل کر رہی ہیں۔ علاوہ ازیں عراقی حکومت میں موجود ایرانی ایجنٹوں کو دور کیا جائے۔

تیسرے نمبر پر ایران کے اندر آزادی کے متوالوں کی تحریک کو مادی، سیاسی اور سفارتی سپورٹ پیش کی جائے اور ایرانی نظام کے کمزور پہلو کو نشانہ بنایا جائے۔

چوتھے نمبر پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو چاہیے کہ وہ پولینڈ میں مشرق وسطی کے حوالے سے بین الاقوامی اجلاس میں امریکا کے حلیفوں اور دوستوں کو اس بات پر قائل کریں کہ ایران کے خلاف کثیر الجہتی اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔ ان تدابیر میں ایرانی حکومت کے اثاثوں کو منجمد کرنے کے اقدامات شامل ہونے چاہئیں یہاں تک کہ ایرانی دہشت گردی کا شکار ہونے والے بیرون ملک بھی امریکی عدلیہ کے ذریعے دعوی دائر کر سکیں۔

کینتھ ٹیمرمین نے اپنے مضمون کے اختتام پر کہا کہ دہشت گردی کا شکار افراد کے لیے انصاف ایرانی آمریت کو شکست دینے کے واسطے امریکی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ لہذا بیرون ملک مالی رقوم سے بھرے بینک کھاتوں کو منجمد کرنا ایران میں بدعنوان ملاؤں کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں