.

سوڈان میں خواتین ریلی پر زہریلی اشک آور گیس کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں پولیس نے دارالحکومت خرطوم میں‌اتوار کے روز حکومت کے خلاف نکالی گئی ایک احتجاجی ریلی کو منتشر کرنے کے لیے ان پر طاقت کا استعمال کیا اور زہریلی آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق خواتین نے ریلی کے دوران حکومت کے خاتمے، خواتین کے تمام بنیادی حقوق کی فراہمی اور صدر عمرالبشیرکو ہٹانے کے حق میں نعرے بازی کی۔

خیال رہے کہ سوڈان میں 19 دسمبر 2018ء سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب حکومت کے خلاف تحریک میں تبدیل ہو رہا ہے۔ مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔

گذشتہ روز خرطوم اور دریائے نیل کے کنارے دوسرے بڑے شہر ام درمان میں خواتین نے ریلیاں نکالیں۔ پولیس نے کریک ڈاون کرکے متعدد خواتین کو حراست میں لے لیا اور انہیں پولیس کی چار گاڑیوں میں‌ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق خواتین نے خرطوم میں ایک بڑی جیل کی طرف بھی مارچ کیا تاہم پولیس نے انہیں جیل کے قریب نہیں آنے دیا۔

موجودہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک طرف پولیس مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہے اور دوسری طرف حکومت اور صدرعمر البشیر قومی مصالحت کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے زیرحراست مظاہرین کو رہا کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے مگر فی الحال بہت سے لوگ پولیس کی حراست میں ہیں۔