.

سوڈانی فوج نے "نگراں حکومت" کی تشکیل کا مطالبہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ تیسرے ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور ساتھ ہی احتجاج کنندگان کی آوازیں بلند ہوتی جا رہی ہیں۔ اس دوران عالمی برادری کی جانب سے یہ مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ پر امن مظاہرے کے حق کا احترام کیا جائے۔

دوسری جانب دارالحکومت خرطوم میں امریکی سفارت خانے سوڈانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے بارہا استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان اقدامات میں براہ راست فائرنگ، زدوکوب کرنا، مساجد، ہسپتالوں، اسکولوں اور گھروں کے علاوہ ان مقامات میں داخل ہونا جنہیں محفوظ مقامات تسلیم کیا جانا چاہیے ،،، شامل ہے۔ امریکی سفارت خانے کے بیان میں اس رجحان کی بھرپور مذمت کرے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ان پر امن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن ہے جو محض اپنے مطالبات کے اظہار کی کوشش کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی ایک وڈیو پیش کی ہے جس میں سوڈان کی سرکاری فورسز کو مظاہرین کے خلاف تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تنظیم نے وڈیو کی تصدیق کر لی ہے اور اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسنانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوڈان میں انسانی حقوق کے بحران پر فوری طور حرکت میں آئے اور دسمبر 2018 میں شروع ہونے والے احتجاجی سلسلے کے بعد سے مرتکب پامالیوں کی آزاد تحقیقات کرے۔

ادھر سوڈان کی مسلح افواج نے باور کرایا ہے کہ وہ وطن کے امن و سلامتی اور شہریوں کے مال و جان اور املاک کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر جانب دار رہے گی۔ ساتھ ہی اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ فوج اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی اور ملک کو لاحق خطرات سے بچانے کے لیے اپنے کردار کی پاسداری کرے گی۔

سوڈان کے صدر کے معاون فیصل حسن ابراہیم نے ان مطالبات کو شدت سے مسترد کر دیا ہے جن میں ملک میں ایک نگراں حکومت تشکیل دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی مظاہروں، تخریب کاری اور بیرونی ایجنڈوں پر عمل درامد سے نہیں آتی۔ ابراہیم کے مطابق 2020 کے اتنخابات کے لیے راستہ کھلا ہے۔