.

'داعش' عالمی سلامتی کے لیے بدستور خطرہ ہے:اقوام متحدہ

شدت پسند گروپ کے 18 ہزار جنگجو موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے شعبہ انسداد دہشت گردی کے ایک سینیر عہدیدارنے کہا ہے کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ 'داعش' کو کاری ضرب لگائی گئی مگر اس کے باوجود یہ گروپ عالمی سلامتی کے لیے بدستور خطرہ ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی شعبے کے سینیر عہدیدار ولادی میر فورنکوف نے سوموار کو سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ داعش کی صفوں میں لڑنے والے ہزاروں جنگ یا تو زیرزمین چلے گئے یا اپنے ملکوں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔ بہت سے جنگجووں کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کردیا گیا۔

انہوں‌نے کہا کہ 'شام اور عراق کی سرزمین داعش کے لیے اب بھی پرکشش ہے، جہاں اس کے جنگجووں کی تعداد 14 سے 18 ہزار کے درمیان ہے'۔

یو این عہدیدار کا کہنا تھا کہ داعش نے اعلانیہ کارروائیوں کے بجائے خفیہ نیٹ ورک بنا لیا ہے اور اس میں علاقائی جنگجووں کے علاوہ عالمی جنگجووں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ گروپ اب گوریلا کارروائیوں کے ذریعے امن وامان تباہ کرنے کی کوشش کرے گا۔