.

امریکا وارسا کانفرنس میں ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں 60 ممالک کے وزرائے خارجہ اور سینیر عہدے داروں کی کانفرنس شروع ہوگئی ہے ۔ امریکا اس کانفرنس میں اپنے ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا خواہاں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کانفرنس میں شرکت سے قبل جمہوریہ سلواک کے دارالحکومت بریٹسلاوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بعض ممالک کے وزرائے خارجہ وارسا کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں اور بعض دوسرے ممالک شرکت نہیں کررہے ہیں ۔یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ہمارے خیال میں ہم حقیقی پیش رفت کریں گے ۔ دسیوں ممالک مشرقِ اوسط کو مزید مستحکم اور بہتر بنانے کے لیے کام کریں گے اور مجھے امید ہے کہ جب جمعرات کو ہم وارسا سے روانہ ہورہے ہوں گے تو ہم یہ ہدف حاصل کرچکے ہوں گے‘‘۔

امریکا کے ایک سینیر عہدے دارنے وارسا کانفرنس کے ایجنڈے کے بارے میں بتایا ہے کہ ’’ اس میں مشرقِ اوسط میں ایران کے اثر ورسوخ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا اور یہ کہ ہم خطے میں ایران کے بُرے کردار کو پیچھے دھکیلنے کے لیے اجتماعی طور پر کیا کچھ کرسکتے ہیں‘‘۔

اس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ نائب صدر مائیک پینس شرکت کررہے ہیں۔ان کے علاوہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کوشنر مشرقِ اوسط میں امریکا کے مجوزہ امن منصوبے اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تعطل کا شکار امن مذاکرات کی بحالی کے بارے میں تجاویز پیش کریں گے۔تاہم وہ اس منصوبے کی کوئی زیادہ تفصیل بیان نہیں کریں گے۔

فلسطینی حکام وارسا اجلاس میں شرکت نہیں کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ امریکا کے اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے ردعمل میں کیا ہے۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس میں شرکت کررہے ہیں۔ان کے علاوہ خلیجی ریاستوں کے وزرائے خارجہ اور ا علیٰ حکام بھی شریک ہیں۔

میزبان پولینڈ کے وزیر خارجہ جیچک زاپو تووچز نے کانفرنس کے آغاز سے قبل کہا کہ مشرقِ اوسط کے مسائل کے حل کے لیے بین البراعظمی تعاون ضروری ہے۔ انھوں نے وارسا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین تنہا مشرقِ اوسط کی صورت حال پر اثر انداز ہونے کے لیے مناسب سیاسی وزن نہیں رکھتی ہے بلکہ جمہوری ممالک کی کمیونٹی امریکا کے ساتھ مل کر مشرقِ اوسط کی صورت حال پر اثر انداز ہوسکتی ہے اور امن واستحکام لا سکتی ہے۔