.

ایران میں انقلاب سے جبر وتشدد برآمد ہوا،اب ناکام ہوچکا : ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں چار عشرے قبل (1979ء میں) برپا شدہ انقلاب اب مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہوچکا ہے۔

امریکی صدر نے ایران میں انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر انگریزی کے علاوہ فارسی زبان میں بھی ایک ٹویٹ جاری کی ہے۔انھوں نے لکھا ہے:’’ کرپشن کے 40 سال ، جبرواستبداد کے 40 سال ،دہشت گردی کے 40 سال ، ایران میں نظام نے صرف ناکامی کے 40 سال ہی دیے ہیں‘‘۔

وہ لکھتے ہیں:’’ طویل عرصے سے مصائب کا شکار ایرانی ایک روشن مستقبل کے حق دار ہیں‘‘۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ کے خارجہ پالیسی پر مشیرِ اعلیٰ جان بولٹن نے بھی اسی قسم کا بیان جاری کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’ یہ ناکامی کے 40 سال ہیں۔اب یہ ایرانی نظام پر منحصر ہے کہ وہ اپنے کردار میں تبدیلی لائے اور یہ ایرانی عوام پر بھی منحصر ہے کہ وہ اپنے ملک کی سمت کا تعیّن کریں‘‘۔

جان بولٹن نے کہا کہ ’’واشنگٹن ایرانی عوام کی منشا کی حمایت کرے گا اوراس بات کو یقینی بنانے کے لیے ان کی پشت پر کھڑا ہوگا کہ ان کی آوازیں سنی جائیں‘‘۔

قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانیوں کو امریکا کی سازشوں کی مزاحمت کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان 1980ء سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔صدر ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور پھر نومبر میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں نافذ کردی تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کو راہِ راست پر لانے اور اس کے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے اثر ورسوخ کے خاتمے کے لیے یہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔