.

لیبیا کے انتہا پسند ترکی کی گود میں، انتخابات کی تیاریاں اور ترک پیسے کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک کی مسلح افواج کے ترجمان نے تکرار اور اصرار کے ساتھ تاکید کی ہے کہ ترکی لیبیا میں مداخلت کررہا ہے۔ لیبیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ترکی کا کردار کھل کرسامنے آگیا ہے۔ ترکی لیبیا کے انتہا پسندوں کی مالی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انتخابات اور سیاست کے میدان میں کامیاب کرانے کے لیے دیگر تمام حربے استعمال کررہا ہے۔

لیبیا کے سیاسی منظرنامے میں ترکی کا کردار کیا ہے؟

لیبیا کی فوج کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے سرغنوں اور عدالتوں کی طرف سے اشتہاری قراردیے گئے عناصر کو ترکی تحفظ فراہم کررہا ہے۔ لیبیا میں جن لوگوں پر دہشت گردی، تشدد، قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے اور ملک کو تباہی سے دوچار کرنےکا الزام عاید کیا جاتا ہے ان میں صف اول میں مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون ہے۔ اخوانی قیادت کا لیبیا کو کمزور کرنے اور ملک میں افراتفری پھیلانے میں اہم کردار بتایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ سنہ 2011ئ میں کرنل قذافی اور ان کی حکومت کے سقوط کے بعد سے جاری ہے۔

اگرچہ لیبیا میں ما بعد انقلاب ترکی کی حکومت نے نئی لیبی حکومت کے ساتھ انسداد دہشت گردی میں‌معاونت کے کئی معاہدے کیے اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ ترکی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لیبیا کا حقیقی ساتھی ہے مگر لیبیا کے داخلی بحران میں ترکی کا اصل کردار مشکوک رہا ہے۔ ترکی کی جانب سے لیبیا کے مسلح گروپوں کو ہتھیار اور رقوم کی فراہمی جاری رہی ہے۔ لیبیا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اشتہاری قراردیے گئے عناصر کے ساتھ انقرہ نے نہ صرف ہمدردی جتائی بلکہ ان کی ہرممکن مدد کی حالانکہ ان میں ایسے گروپ اور عناصر بھی شامل ہیں جنہیں عالمی دہشت گرد قراردیا گیا ہے۔

بلحاج، رقوم اور ترک بنک

لیبیا کے سیکیورٹی اداروں اور عدالتوں کی طرف سے القاعدہ تنظیم سے وابستہ دہشت گرد عبدالحکیم بلحاج کو ترکی نے اپنے ہاں پناہ دی۔ حالانکہ بلحاج پر لیبیا میں سیکیورٹی اداروں پر دہشت گردانہ حملوں اور لیبیا کو غیر مستحکم کرنے کے حوالے سے اس کے خلاف ٹھوس شواہد موجود تھے۔
معمر قذافی کے سقوط کے دوران بلحاج اور اس کے ساتھیوں پر بنکوں میں لوٹ مار، نقدی ، سونا اور ہیرے جوائرات کی لوٹ مار کا الزام عاید کیا گیا۔ بلحاج پرالزام عاید کیا گیا کہ اس نے لیبیا کے بنکوں سے لوٹی گئی اربوں ڈالر کی رقم ترک کے بنکوں میں جمع کرائی۔

کرنل معمر قذافی کے دور حکومت میں بلحاج جیل میں قید تھا۔ اس پر قذافی رجیم کے خلاف مسلح جہاد کے لیے ایک گروپ تشکیل دینے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا الزام عاید کیا گیا۔ قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد عبدالحکیم بلحاج نہ صرف جیل سے باہر آگیا بلکہ اس نے کھلے عام لوٹ مار شروع کردی۔ اس طرح اس کا شمار لیبیا کے ارب پتی لوگوں میں ہونے لگا۔

اخوانی لیڈر علی الصلابی

ترکی کی طرف سے لیبیا کے جن انتہا پسند لیڈروں کی معاونت کی جاتی ہے ان میں ایک نام علی الصلابی کا ہے۔ الصلابی اخوان المسلمون کا لیڈر ہے اور اس کے لیبیا کے دیگر انتہا پسند گروپوں کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ ترکی کئی بار اس کی میزبانی کرچکا ہے۔ ترکی میں آمد روفت کا مقصد لیبیا میں آنے والے انتخابات کے لیے تیاری کرنا ہے۔

طارق بلعم اور احمد لمجبری

لیبیا کے ترک نواز دہشت گرد لیڈروں جو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والے ہیں میں بن غازی کی مجلس شوریٰ نامی 'دہشت گرد' تنظیم کے لیڈر طارق بعلم اور احمد المجبریطارق بلعم وأحمد المجبربھی سر فہرست ہیں۔ سنہ 2017ء کو برطانیہ نے ان کے لندن داخلے پر پابندی عاید کردی تھی۔ انہیں انتہا پسندی کے فروغ کے الزام میں ترکی بدر کردیا گیا تھا۔

ترکی اس وقت کئی دوسرے ملکوں کی اخوانی قیادت کی پناہ گاہ ہے۔ ترکی کی موجودہ حکومت اخوان المسلمون کو تحفظ دے رہی ہے، ان مین لیبیا کی جنرل نیشنل کانگریس کے رکن محمد مرغم جو ماضی میں لیبیا کی فوج کے خلاف لڑ چکے ہیں ترکی میں پناہ گزین ہیں۔