.

دنیا کو ہلا دینے والے'آلان کردی' کی پھوپھی کا پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو ستمبر 2015ء کو ترکی کے ساحلی علاقے 'بودروم' میں سمندر کی لہروں میں مردہ پائے جانے والے بچے ایلان کردی کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ یہ معلومات اس کی پھوپھی تیما کردی 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات چیت میں بتائیں۔

تیما کا کہنا ہے کہ سمندر کی لہروں میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے اس کے بھتیجے کی عمردو سال نہیں بلکہ تین سال تھی اور اس کا نام 'ایلان' نہیں‌ بلکہ "آلان" تھا۔ سمندر میں ڈوب کر جاں‌بحق ہونےوالا وہ اکیلا نہیں بلکہ اس حادثے میں اس سے ایک سال بڑا بھائی غالب اور ان دونوں کی ماں ریحانہ بھی شامل تھیں۔

"آلان کردی" کی پھوپھی کا کہنا ہے کہ اس کے بھتیجےکی لاش جس حالت میں پائی گئی تھی اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے اس المناک حادثے کی تفصیلات پرمبنی ایک کتاب بھی شائع کی گئی ہے۔ حال ہی میں جرمنی نے بھی ایک بحری جہاز کو'آلان کردی' کے نام منسوب کیا ہے۔ اس کاکہنا ہے کہ ہمارے لیے یہ حادثہ برداشت کرنا اتنا آسان نہیں۔ یہ بہت مشکل ہے کہ ہمارے پورے خاندان کو سمندر نے ہم سے چھین لیا تھا۔ بچے کے والد عبداللہ کو اور باقی پورے خاندان کوگہرا صدمہ پہنچا ہے۔ چار سال گذرنے کے بعد بھی وہ اس صدمے سے باہر نہیں آسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمن کمپنی 'سی اے' کی طرف سے بحری جہاز کو 'آلان کردی' کے نام منسوب کرنے کی تقریب میں مدعو کیا تو ہمارا صدمہ پھر سے تازہ ہو گیا۔ ہم نے کمپنی کے منتظمین کے ساتھ رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ ہم اس کیفیت اور مصیبت سے اچھی طرح آگاہ ہیں جو خود کو اس طرح کے خطرات میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کیفیت سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے خاندان کو مُلک چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ انہوں‌نے ایک مصیبت سے جان چھڑانے کی کوشش مگر ایک اور مصیبت میں گرفتار ہوگئے۔

آلان کردی کی پھوپھی کا کہنا تھا کہ ہم 'ساحلی بچے' کے حوالے سے دنیا کو یاد دلاتے رہے ہیں۔ ہم لوگوں کے دلوں میں‌اس کی یاد پیدا کرتے رہےہیں گے تاکہ وہ دوسروں کی مدد کرسکیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں اس کا کہنا تھا کہ ہم کسی ایک انسان کو بھی سمندر میں‌ڈوبنے کرموت سے دوچار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ مغرب کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے ملک کی سرحدیں بند کیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ جب تک جنگ جاری رہی تب تک نقل مکانی جاری رہے گی۔

اس نے کہا کہ ہمیں جو صدمہ پہنچ چکا ہے وہ الفاظ سے دور نہیں‌ہوسکتا۔ میرے اور میرے بھائی کا صدمہ ناقابل بیان ہے۔ جب میں اپنے بھائی کے ساتھ سمندر کے کنارے آئی تو اس نے کہا کہ ادھر دیکھو میرے خاندان کے ساتھ کیا ہوا۔ میں اب مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ وہ آج تک اپنے نفسیاتی دبائو سے باہر نہیں آ سکا۔