.

پاکستانی نژاد خاتون نے کھانوں کے ذریعے فلسطین کا کیسے دفاع کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی اور عرب دنیا میں پکوانوں کی ان گنت کتب موجود ہیں جن میں دنیا کے انواع واقسام کے کھانوں کی تراکیب کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں مگر انسانی حقوق کی ایک پاکستانی اور ایرانی نژاد کارکن نے ککنگ کی ایک منفرد کتاب تصنیف کر کے قضیہ فلسطین کا مخصوص انداز میں دفاع کیا ہے۔

انسانی حقوق کی برطانوی کارکن یاسمین خان کے والدین پاکستان اور ایران سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس نے برطانیہ میں فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرتے ہوئے اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔

یاسمین خان نے برطانیہ کے متعدد سرکاری اداروں میں بھی خدمات انجام دیں مگر سرکاری اداروں میں کام کرتے ہوئے وہ ہمیشہ انسانی‌ حقوق کے میدان کام کرنے پر توجہ مرکوز کر دی اور لندن کو چھوڑ کر تھائی لینڈ کے ایک ساحلی علاقے کو اپنا مرکز بنا لیا۔

اس کے آبا واجداد ایران میں مقیم تھے۔ اگرچہ ککنگ کے میدان میں تصنیف وتالیف کا اس کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا مگر یاسمین خان نے اسے اپنی دلچسپی کا موضوع بنا لیا۔ انھوں نے 2016ء میں ایرانی پکوانوں پر مشتمل ایک کتاب 'روایات زعفران' تالیف کی۔

اپنی حالیہ کتاب کے بارے میں واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب میں یاسمین خان کا کہنا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے پکوانوں پر کام کرنے کے بارے سوچ رہی تھیں۔ اس کے شوق کو فلسطینی اور مشرق وسطیٰ کے پکوانوں، پھلوں، شہد، اخروٹ، زیتون کے تیل، خشک زیتون اور اس کے تیارکردہ عرق سے محبت کو اور بھی جلا بخشی۔

یاسمین خان نے برطانیہ میں رہتےہوئے مشرق وسطیٰ کےممالک کے مشہور پکوانوں پر تحقیق کی۔ اس دوران اس نے فلسطینی پکوانوں کے بارے میں بھی مطالعہ کیا۔ بالآخر اس نے فلسطینی پکوانوں کام شروع کردیا۔ فلسطینی پکوانوں پرمشتمل کتاب'زیتون ریسیپز فرام فلسطیننین کچن' تالیف کی۔ اس کتاب کے ذریعے یاسمین خان نے یورپی یونین اور مغربی دُنیا میں فلسطینی پکوان متعارف کرائے۔

کتاب کے پہلے حصے میں فلسطین کے روایتی کھانوں اور ان کی تراکیب کا ذکر ہے۔ اس میں ان ممالک کے پکوان بھی شامل ہیں جو اس نے مختلف ممالک کے دوروں کے دوران دیکھے یا ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ یاسمین خان نے اپنی کتاب فلسطین میں بنائے جانے والے چاکلیٹس اور مٹھائیاں بنانے تراکیب بھی شامل کی ہیں۔

برطانیہ اور امریکا سمیت متعدد دوسرے مغربی ملکوں میں‌بھی یاسمین کی کتاب کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی مگر اس کے بعض پہلوئوں پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یاسمین خان نے بہت سے ایسے پکوانوں کا ذکر کیا جو اسرائیل کی شناخت اور پہچان ہیں مگرانہیں بھی فلسطینی پکوانوں میں شامل کیا گیا۔ ناقدین میں زیادہ تر اسرائیل کے حامی حلقے شامل ہیں تاہم یاسمین نے اسرائیلی پکوانوں کو نظرانداز کرنے کا الزام مسترد کردیا ہے۔ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ فلسطینی پکوانوں پر کتاب کی تالیف کا مقصد فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی ثقافت کو اجاگر اور ان کی خوشی میں اضافہ کرنا تھا۔

یاسمین خان نے اپنی کتاب کو تین جغرافیائی خطوں کے مطابق تقسیم کیا۔ الخلیل شہر کے پکوانوں کو شامی پکوانوں کے مشابہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ غرب اردن کے پکوان، گوشت، روٹی، غزہ کی مچھلیوں کے پکوان اور دیگر فلسطینی علاقوں کے مشہور پکوانوں کی تراکیب بیان کی گئیں۔

اس نے کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں خود جا کر پکوان دیکھنا چاہتی تھیں مگر اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں‌ کرسکیں، تاہم اس نے اسکائپ کی مدد سے غزہ کے پکوانوں کی تراکیب حاصل کیں۔