اپوزیشن کا 'وارسا' کانفرنس کے باہرایرانی رجیم کے خلاف مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں کل بدھ کو عالمی امن کانفرنس کا آغاز ہوا اور دُنیا بھر سے دسیوں وفود اور مندوبین وارسا پہنچے۔ دوسری جانب پولینڈ میں مقیم ایرانی شہریوں اور اپوزیشن نے 'وارسا' کانفرنس کےباہر ایرانی رجیم کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولینڈ اور امریکا کی سرپرستی میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پرایرانی شہریوں‌ کی بڑی تعداد نے اس کانفرنس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے ساتھ ایرانی پالیسیوں کی شدید مذمت کی۔

ایراجی رجیم مخالف مظاہرے کا اہتمام پولینڈ میں ایرانی اپوزیشن گروپ'مجاھدین خلق' کی طرف سے کیا گیا تھا۔ مظاہرے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر روڈی جولیانی، کانگریس کے رُکن رابرٹ ٹوریسلی اور پولینڈ کی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے بھی شرکت کی اور مظاہرے سے خطاب کیا۔

روڈی جولیانی نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ وہ ایران کو ملائوں کے قبضے سے نجات دلانے اور ایران کو مذہبی طبقے کی پابندیوں سے آزاد کرانے کا خواب دیکھ رہےہیں۔ امریکا ایرانی اپوزیشن کےساتھ مل کر ایرانی رجیم کے خلاف کام جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ایران میں مذہبی عناصر کی حکومت موجود ہے اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں دیرپاامن خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

مظاہرین میں رضا شاہ پہلوی کے حامی بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہاتھوں میں رضا شاہ کی تصاویر اٹھا کر موجودہ ایرانی مذہبی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین میں ایران کی فارسی، اھواز، کرد، بلوچ، ترک، آذر اور دیگر برادریوں کے شہریوں نے شرکت کی اور ایرانی مظالم کوبند کرنے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں