ایرانی صدر کا امریکا، اسرائیل پر سپاہِ پاسداران انقلاب پرخودکش بم حملے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا اور خطے میں اس کے اتحادیوں پر جنوب مشرقی صوبے سیستان ،بلوچستان میں بدھ کو سپاہ ِ پاسداران انقلاب پر خودکش بم حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

بدھ کو ایک حملہ آور بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار پاسداران انقلاب کی ایک بس سے ٹکرا دی تھی جس کے نتیجے میں دھماکے میں 27 اہلکار ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے تھے۔ سنی جنگجو گروپ جیش العدل نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ گروپ ایران کے اس صوبے میں بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والی سنی اقلیت کے حقوق کی بازیابی کے لیے مسلح جدوجہد کررہا ہے۔

صدر حسن روحانی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ یہ جرم دہشت گردی کے مرکزی حامیوں وائٹ ہاؤس ، تل ابیب اور ان کے علاقائی ایجنٹوں کے سیاہ ریکارڈ میں ایک ’’ گندے دھبے‘‘ کے طور پر موجود رہے گا‘‘۔

تاہم ایرانی صدر نے اسرائیل کے علاوہ امریکا کے علاقائی اتحادیوں میں سے کسی کا نام نہیں لیا ہے۔ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے ۔صہیونی ریاست خطے میں امریکا کی ایک بنیادی اتحادی ہے جبکہ اس کا کہنا ہے کہ ایران اس کے وجود ہی کے درپے ہے۔

ایران ماضی میں بھی سعودی عرب پر سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والے سنی جنگجو گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کرتا رہا ہے مگر سعودی عرب نے ہمیشہ ایسے بے سروپا الزامات کو مسترد کیا ہے۔

حسن روحانی نے دوسرے ایرانی عہدے داروں کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہ کن بم حملے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں