ایران کے لیے جاسوسی میں‌ملوث امریکی خاتون افسراشتہاری قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزارتِ انصاف کی جانب سے ڈرامائی انداز میں بدھ کے روز ایک اعلان کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ فضائیہ کی ایک خاتون عہدیدارایران کے لیے جاسوسی میں ملوث پائی گئی ہیں اور وہ ایران میں ہیں انہیں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے امریکی وزارت انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائیہ کی سابق افسر مونیکا ویٹ انسداد جاسوسی یونٹ میں کام کرچکی ہیں۔ سنہ 2013ء کو وہ امریکا سے چلی گئی اور ایرانیوں کے ساتھ مل کر امریکا کی جاسوسی شروع کردی تھی۔ اس نے ایرنیوں کو امریکا کے انتہائی خفیہ انٹیلی جنس پروگرام اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کے افسروں کے نام بھی بتائے۔

وزارت انصاف کے مطابق مونیکا ویٹ سنہ 2012ء کو ایران چلی گئی تھی۔ اس کے بعد اسے ملک کے ساتھ بد دیانتی کامظاہرہ کرنے کے الزام میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ اس نے امریکی ویب سائیٹوں اور کمپیوٹر نظام پر ایرانیوں کو سائبر حملوں میں‌بھی مدد فراہم کی ہے۔

مونیکا ویٹ کے کیس میں چار ایرانی بھی شامل ہیں‌ جن پر امریکا پر سائبرحملوں اور امریکا کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے ایران کی 'نیو ہوریزن' فائونڈیشن کو بھی بلیک لسٹ کردیا ہے۔ یہ تنظیم پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر کانفرنسوں کے انعقاد کا اہتمام کرتی ہے۔ ان کانفرنسوں کے ذریعے بیرون ملک جاسوس بھرتی کیےجاتے ہیں۔
وزارت خزانہ کی طر ف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'نیو ہورزین' فائونڈیشن پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر لوگوں کو بلیک میل کرتی اور انہیں دوسرے ممالک میں جاسوسی کے لیے بھرتی کرنے ساتھ سام دشمنی کے نظریات کو ترویج دینےکے لیے سرگرم ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ نے ایران کے لیے جاسوسی کرنے والی امریکی خاتون افسر مونیکا ویٹ کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں۔ ویٹ نے سنہ 1997ء میں امریکی فوج میں سروس کا آغاز کیا اور 11 سال کے بعد اس نے فوجی ملازمت ترک کردی۔ سنہ 2010ء کو امریکی وزارت دفاع کے ساتھ کا معاہدہ ختم ہوگیا۔ اس پورے عرصے میں اس نے انتہائی حساس سیکیورٹی کارڈ کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اسے بیرون ملک جاسوسی کی روک تھام کی مہمات پربھی مقرر کیا جاتا رہا۔

سنہ 2010ء میں وہ ایران گئی اور 'نیو ہورزین' فائونڈیشن کی ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ اس دوران اس نے ایک ایرانی نژاد امریکی سے رابطہ کیا۔ سنہ 2013ء کو اس نے دوبارہ ایران کے سفر کا فیصلہ کیا۔ اسے ایران میں رہائش اور کمپیوٹر فراہم کیے گئے۔ اس نے ایرانیوں کو امریکا کے حساس سیکیورٹی راز بتائے اور امریکا میں اہم شخصیات ، ان کی نقل حرکت اور دیگر اہداف کے بارے میں ایران کو جاسوسی میں مدد کی۔ مونیکا ویٹ کی فراہم کردہ معاونت اور جاسوسی کے نتیجے میں ایرانی ہیکروں‌نے امریکی کمپیوٹر نظام پر سائبر حملے کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں