.

مصری سفارتی بیگز میں نوادرات کی اٹلی اسمگلنگ ، ایک بڑے نام کے ملوث ہونے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند ماہ قبل اطالوی اخبارات نے ایک دھماکا خیز خبر میں انکشاف کیا تھا کہ مصر سے آنے والے ایک کنٹینر کو قبضے میں لے لیا گیا ہے جس کے اندر سفارتی بیگز میں مصر کے آثار قدیمہ کے نوادارت موجود ہیں۔

اس سلسلے میں مصری اور اطالوی حکام نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کیں جس کے بعد جمعرات کے روز اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ حسنی مبارک کے دور میں ایک سینئر مصری وزیر کا بھائی اور اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کا بھتیجا اس معاملے میں اطالوی شراکت داروں کے ساتھ ملوث ہے۔

مصری استغاثہ نے بطرس رؤوف کو 4 روز کے لیے حراست میں لینے کا حکم دیا ہے تا کہ سفارتی بیگز میں آثار قدیمہ کے نوادرات کی اطالیہ اسمگلنگ کے کیس میں تحقیقات کی جا سکیں۔ بطرس روؤف سابق مصری صدر حسنی مبارک کے دور میں وزیر مالیات یسف بطرس غالی کا بھائی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں اطالوی میڈیا نے انکشاف کیا تھا کہ نیپولی شہر کی پولیس نے مصر کی اسکندریہ بندرگاہ سے آنے والے بحری جہاز پر موجود کنٹینروں سے مصری آثار قدیمہ کے نوادارت ضبط کر لیے ہیں۔

ادھر مصر کی وزارت آثار قدیمہ کے ایک سینئر عہدے دار شعبان عبدالجواد نے اس غالب گمان کا اظہار کیا ہے کہ مذکورہ نوادرات کو غیر قانونی کھدائی اور چوری کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ بالخصوص جب کہ ضبط کیے جانے والے نوادرات مصری آثار قدیمہ کی وزارت کی تجوریوں یا میوزیم سے غائب نوادرات میں سے نہیں ہیں۔ مصری عہدے دار کے مطابق ضبط کیے گئے نوادارت کا تعلق مختلف زمانوں سے ہے اور ان میں اسلامی تہذیب سے متعلق اشیاء کم ہیں۔

دوسری جانب مصری وزارت خارجہ نے اس امر کی تردید کی ہے کہ مذکورہ نوادارت کو روم میں مصری سفارت خانے یا اس کے کسی رکن کے زیر انتظام کنٹینر کے ذریعے اسمگل کیا گیا۔ سفارت خانے کے سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اطالوی حکام نے یہ انکشاف کیا ہے کہ یہ نوادرات اور کھیپ کسی مصری سفارت کار کی نہیں بلکہ ان کا تعلق ایک اطالوی شہری سے ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا کہ اس معاملے میں دیگر شراکت داروں کے ساتھ مصری وزیر کا بھائی بھی ملوث ہے جو اطالوی شہریت رکھتا ہے۔

بطرس روؤف غالی مصر کے سابق وزیر مالیات یوسف بطرس غالی کا بھائی ہے۔ اس کے پاس اطالیہ اور یورپی ریاست سان میرینیو کی شہریت ہے اور وہ سفر کے دوران دونوں ملکوں کے پاسپورٹس استعمال کرتا ہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر یوسف بطرس غالی اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل بطرس بطرس غالی کے بھتیجے ہیں۔ انہیں بدعنوانی کے کئی مقدمات میں قصور وار ٹھہرایا جا چکا ہے تاہم وہ انقلابی تحریک بھڑکنے کے بعد ملک سے فرار ہو گئے۔ اس وقت یوسف بطرس ایک یورپی ملک میں قیام پذٰیر ہیں اور وہ اس ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔