یورپ بھی ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہہ دے : مائیک پینس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے یورپ پر زور دیا ہے کہ وہ بھی ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیر باد کہہ دے ۔انھوں نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کی حمایت کریں۔

انھوں نے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں منعقدہ کانفرنس میں جمعرات کو تقریر کرتے ہوئے ایران کو مشرقِ اوسط میں امن وسلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے اور اس کے مذہبی علماء پر مشتمل نظام پر خطے میں ایک اور ہولو کاسٹ برپا کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے۔

انھوں نے برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کو بھی ایران کے ساتھ مالی لین دین کے لیے ایک نیا مالیاتی نظام وضع کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس نئے نظام کا مقصد ایران کے خلاف امریکا کی عاید کردہ سخت پابندیوں سے یورپ کی کاروباری کمپنیوں کو بچانا ہے۔

وارسا میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں فلسطینی حکام شرکت نہیں کررہے ہیں۔ انھوں نے یہ فیصلہ امریکا کے اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے ردعمل میں کیا ہے۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس میں شرکت کررہے ہیں۔ان کے علاوہ خلیجی ریاستوں کے وزرائے خارجہ اور ا علیٰ حکام بھی شریک ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت ایران کے خلاف عاید کردہ بعض پابندیاں ختم کردی تھیں اور بعض میں نرمی کی تھی لیکن موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں اس سمجھوتے کو خیرباد کہنے کا ا علان کردیا تھا اور نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔وہ اپنے یورپی اتحادیوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کے مشرقِ اوسط میں ’’ بُرے کردار‘‘ سے روکنے کے لیے امریکا کا ساتھ دیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں