.

خفیہ پین کیمرہ سے طالبات کی تصاویر بنانے والے استاد کو قانونی کارروائی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کی سپریم کورٹ نے فاونٹین پین میں نصب کیمرے سے اسکول کی طالبات کی تصاویر اتارنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایک سابق استاد ریان گارویز پر فرد جرم عاید کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ کیس سنہ 2015ء میں کینیڈا کی عدالتوں میں لایا گیا جس میں ایک اسکول کے استاد پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے قلم میں نصب خفیہ کیمرے کی مدد سے 14 سے 18 سال کی لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی تھیں۔ تاہم ابتدائی عدالت اور بعد میں اپیل کورٹ نے استاد کو اس کیس میں بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسکول میں 24 گھنٹے کیمرے کام کرتے ہیں۔ اگر ان کیمروں کی وجہ سے طالبات کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوتی تو استاد کے قلم میں لگے کیمرے سے بھی ایسا نہیں ہوتا۔

طالبات نے اپنے وکیل کے ذریعے یہ کیس سپریم کورٹ میں دائر کیا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے سابق استاد پر فرد جرم عاید کرتے ہوئے انہیں قصور وار قرار دیا گیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ گارویز نے 2010ء اور 2011ء کے دوران اپنے قلم میں نصب کیمرے سے طالبات کی 35 ویڈیوز اورتصاویر بنائیں۔ اس کےعلاوہ اس نے تصاویر میں طلبات کی چھاتی کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جس سے اس کی غلط سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

اگلی سماعت پر ملزم کو جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
کینیڈا میں طالبات کی پرائیویسی کے حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

جج کا کہنا تھا کہ جدید مواصلاتی آلات کے ذریعے خواتین کے جسم کے حساس حصوں کی تصاویر اتارنا یا جدید کیمروں سے لیس ڈرون کی مدد سے گھروں میں پیراکی کرکے والے مرد وخواتین کی تصاویر اتارنا غیر اخلاقی اور مواصلاتی آلات کے استعمال کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرح کے حربوں سے شہریوں کی نجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔