.

‘‘ترکی میں جھوٹے الزامات کے تحت اجتماعی ٹرائل، گواہوں کو کچھ علم نہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں سنہ 2016ء کے وسط میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کی حکومت نے مخالفین کے خلاف سیاسی انتقام کی بدترین پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

امریکی اخبار'نیویارک ٹائمز' نے ایردوآن رجیم کی اپوزیشن کے خلاف جاری انتقامی پالیسی کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مخالفین کے خلاف اجتماعی ٹرائل جاری ہے۔ نام نہاد اور جھوٹے الزامات میں انہیں پکڑا جاتا ہے اور جن لوگوں کو ان ملزمان کے خلاف گواہوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ سرے سے کچھ نہیں جانتے کہ جس شخص کے خلاف انہیں گواہی دینا ہے اس پر الزام کیا ہے؟۔

امریکی اخبار کے مطابق گذشتہ چند ہفتوں کے دوران 300 اجتماعی ٹرائل مکمل کیے گئے۔ ترک جمہوریت کی تاریخ کا یہ ایک سیاہ باب ہے۔ سنہ 2016ء کی ناکام بغاوت میں کسی نہ کسی طرح‌ ملوث ہونے کی پاداش میں لوگوں کو پکڑا جاتا ہے اور ان کے خلاف کھلی عدالتوں میں ٹرائل کیا جاتا ہے۔ تین سال قبل جب فوج کےایک گروپ نے صدر طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی تو ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جن میں کم سے کم 251 افراد ہلاک اور 2000 زخمی ہو گئے تھے۔

بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں اب تک 3000 افراد کے خلاف مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں۔ ان میں فوج کے افسران، سپاہی اور سول عہدیدار بھی شامل ہیں۔ ترک حکومت کڑی سزائوں اور سخت فیصلوں کو اپنی اور 'انصاف' کی فتح قرار دیتی ہے۔

مگر دوسری طرف شہریوں کا اجتماعی ٹرائل معاشرے میں ایک نئی تقسیم کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ ترکی میں تیزی کے ساتھ عوام میں یہ شعور اجاگر ہو رہا ہے کہ حکومت 'ظلم' کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے بھی ترکی میں مخالفین کے خلاف جاری ٹرائل کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے طیب ایردوآن دور کا بدترین ظلم قرار دیتے ہیں۔

ہفتہ وار تطہیری مہم

ترکی میں ناکام بغاوت کے دو سال بعد بھی حکومت کو ڈر ہے کہ لوگ اس کے خلاف پھر گھروں سے نکل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت مسلسل عوام اور اداروں میں موجود مخالفین کے خلاف کریک ڈائون جاری رکھے ہوئے ہے۔ محض شبے کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو اس کے گھر یا دفتر سے اٹھا لیا جاتا ہے اور اس پر فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کا حصہ ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جاتا ہے۔

حکومت نے مخالفین کے خلاف کریک ڈائون کو 'ہفتہ وار تطہیری' مہمات کا نام دے رکھا ہے۔ اس نام نہاد تطہیری مہم کے دوران لاکھوں سرکاری ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بے سہارا کر دیا گیا ہے۔ ان میں فوج اور پولیس کے لوگ بھی شامل ہیں۔

گذشتہ چند ایام کے دورام نام نہاد تطہیری مہم کے دوران 1100 افراد کو ان کی ملازمتوں سے محروم کرنے کے بعد ان کے خلاف عدالتوں میں قانونی کارروائی شروع کی گئی۔

جعلی ٹرائل

ترکی میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے ملک میں سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھائے جانے والے افراد کے خلاف جاری ٹرائل پرسخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں 100 یا 200 افراد کو اجتماعی طور پر پکڑ کر اجتماعی ٹرائل کے مکروہ عمل سے گذارا جاتا ہے۔ ان پر عاید کردہ الزامات میں سب سے بڑا الزام بغاوت کی حمایت ہے مگر پکڑے گئے ہزاروں افراد کا بغاوت سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی کھلے گرائونڈ میں‌ لگائی گئی عدالت میں ایک ایک ملزم کے ساتھ درجوں پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو مقرر کیا جاتا ہے۔ وہ انتہائی توہین آمیز انداز میں ملزمان کو عدالت میں پیش کرتے اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔ موجودہ حکومت کی وفادار عدالتوں نے اپنی غیر جانب داریت کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

گذشتہ برس دسمبر میں استنبول سے باہر ایک عدالت میں لگائے گئے مقدمے میں 48 سابق فوجیوں اور پولیس افسروں کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے جنہوں نے خاموش احتجاج کے دوران اپنے ہاتھ اپنی کرسیوں کے ساتھ باندھ دیئے تھے۔

لاکھوں افراد گرفتار

حال ہی میں ترکی کی ایک عدالت میں 5 سول اور 38 فوجی افسران کے خلاف بغاوت میں حصہ لینے کے الزامات کے تحت مقدمات کا آغاز کیا گیا۔

ترک حکام ان ملزمان کو 'مافیا' کے سرغنے قرار دیتی ہے۔ پولیس نے لاکھوں افراد کو حراست میں لیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اب بھی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ ان میں مسلح افواج کے سابق سینئر افسران بھی شامل ہیں۔۔ یہ سلسلہ پورے ترکی میں جاری ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ترکی میں بغاوت کی حمایت کے الزامات میں پکڑے گئے شہریوں کے خلاف جاری ٹرائل میں جھوٹے الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔ غیر واضح‌ انداز میں ان کا ٹرائل کیا جاتا ہے۔

ایک ملزم کے خلاف گواہ کے طورپر پیش کیے گئے شخص کے بارے میں کہا گیا کہ بغاوت کی رات وہ انقرہ میں موجود ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود اسے ملزم کے خلاف گواہی کےلیے تیار کیا گیا۔

اس طرح ایسے ہزاروں کیسز ہیں جن میں جھوٹے گواہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کے خلاف جعلی اور من گھڑت الزامات کے تحت مقدمات چلا کران کی زندگی برباد کی گئی۔