.

"ٹویٹر" نے خامنہ ای کے اکائونٹ سے سلمان رشدی کے قتل کے جواز کا فتویٰ حذف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' نے صارفین کے ’’اصرار اور دبائو‘‘ کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اکائونٹ پر موجود برطانوی مصنف اور گستاخ رسول سلمان رشدی کے قتل کے جواز میں 1989ء میں جاری کردہ فتویٰ حذف کر دیا ہے۔

یہ فتویٰ سنہہ 1989ء میں ایران اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی نے جاری کیا تھا جس میں سلمان رشدی کو واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔

"ٹویٹر" کے ترجمان نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خمینی کا متنازع فتویٰ پوسٹ کرکے 'ٹویٹر' کی شرائط اور پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے اسے ٹویٹر کے صفحات سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 'ٹویٹر' کسی صارف یا شہری اذیت دینے، تشدد پر اکسانے، جسمانی ذیت پہنچانے، موت سے دوچار کرنے، فرد یا عوام کے اجتماعی مفادات کے لیے خطرہ بننے والی پوسٹیں شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

'باز فیڈ' ویب سائٹ کے مطابق ٹویٹر نے جمعہ کے روز آیت اللہ علی خامنہ ای کے اکائونٹ سے گستاخ رسول سلمان رشدی کے قتل کے جواز میں جاری کردہ خمینی کا فتویٰ حذف کردیا۔ اس فتوے میں برطانوی مصنف سلمان رشدی کو قرآن پاک کو 'شیطانی آیات' قرار دینے پر اسے واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔ ٹویٹر پر خامنہ ای کے فالورز کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے زاید ہے۔