اقتصادی جنگ عسکری جنگ سے زیادہ دشوار ہے : روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کے بوجھ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اقتصادی جنگ عسکری جنگ سے کہیں زیادہ دشوار ہے"۔

روسی خبر رساں ایجنسی Sputnik کے مطابق روحانی نے یہ بات پیر کے روز ایران کے جنوب میں بندر عباس کے مغرب میں واقع آئل ریفائنری کے تیسرے مرحلے کے آغاز کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔

ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ "اگر ہمیں سپورٹ نہ ملی تو ہم اقتصادی یا عسکری جنگ میں ہر گز کامیاب نہیں ہو سکیں گے"۔

روحانی نے زور دے کر کہا کہ "آج عام حالات نہیں ، ہم جنگ کے حالات سے گزر رہے ہیں"۔

گزشتہ برس نومبر میں تہران پر امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ نافذ العمل ہو گیا۔ اس مرحلے میں تہران کے دو اہم سیکٹروں آئل اور بینکنگ کو ہدف بنایا گیا۔ اس کے علاوہ 700 شخصیات اور ادارے بھی لپیٹ میں آئے۔

امریکی انتظامیہ کا مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچا دینا ہے۔

ایران پر امریکی پابندیوں میں کئی سیکٹر شامل ہیں جن میں اہم ترین یہ ہیں :

- جہاز رانی، سمندری جہاز بنانے کی صنعت، مالیات اور توانائی پر پابندی۔

- تیل سے متعلق پابندیوں کا دوبارہ فعّال ہونا بالخصوص نیشنل ایرانین آئل کمپنی (NIOC)، نیفٹ ایران انٹر ٹریڈ کمپنی (NICO) اور نیشنل ایرانین ٹینکر کمپنی (NITC) کے ساتھ مالیاتی لین دین اور ایران سے تیل، تیل کی مصنوعات یا پٹروکیمیکل مصنوعات خریدنے پر پابندی۔

- غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ایرانی مرکزی بینک اور بعض ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ اقتصادی لین دین پر پابندی۔

- ایرانی مرکزی بینک اور ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ مختص فنانشل سروسز سے متعلق پابندیاں۔

- انشورنس سروسز کی فراہمی سے متعلق پابندیاں۔

- ایران کے انرجی سیکٹر سے متعلق پابندیاں۔

ان کے علاوہ امریکا نے اُن اجازت ناموں کو بھی منسوخ کر دیا ہے جو جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ایران کے ساتھ لین دین کے لیے امریکی اداروں کو جاری کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں