داعش کی خلافت میں 4 برس گزارنے والی شمیمہ بیگم کو کوئی پشیمانی نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی 19 سالہ برطانوی لڑکی کا کہنا ہے کہ اسے شام میں داعش کی خلافت کے زیر سایہ گزارے جانے والے 4 برسوں پر کوئی ندامت نہیں ہے۔ شمیمہ بیگم نے یہ بات برطانوی ٹی وی چینل اسکائی نیوز کو اتوار کے روز دیے گئے انٹرویو میں کہی۔

تاہم شمیمہ کی خواہش ہے کہ وہ برطانیہ لوٹ جائے تا کہ اپنے تیسرے بچے کی دیکھ بھال کر سکے جس کی پیدائش چند روز قبل ہوئی ہے۔ اس سے قبل شمیمہ کے دو بچے مناسب خوراک نہ ملنے کے سبب شیر خوارگی کی عمر میں فوت ہو چکے ہیں۔

شمیمہ کا کہنا ہے کہ جب وہ 14 برس کی تھی تو عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا ہر جگہ داعش کی خلافت پر مبنی دولت اسلامیہ کا چرچا تھا اور ابتدائی مراحل میں اسے بہت زیادہ کشش محسوس ہوئی۔

انیس سالہ شمیمہ کے مطابق شام کے شہر الرقہ کا سفر کرنا ایک طرح سے اس کی غلطی تھی۔ تاہم شمیمہ نے واضح کیا کہ وہ اس پر قطعا پیشمان نہیں کیوں کہ اس سفر نے اسے تبدیل کر دیا اور زیادہ طاقت ور بنا دیا۔

شمیمہ نے باور کرایا کہ اگر وہ برطانیہ میں ہی رہتی تو اسے اپنے شوہر جیسا شخص نہیں ملتا۔ وہ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والا داعشی جنگجو تھا اور اس کا نام ریگو ڈیجک تھا۔ شمیمہ نے اپنے شوہر کے لیے اور اس کے ساتھ گزاری گئی زندگی کے حوالے سے بھرپور محبت کا اظہار کیا۔

برطانوی لڑکی کے مطابق اس کا طویل عرصے سے اپنے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا کیوں کہ اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔

شمیمہ کے مطابق کسی برطانی عہدے دار نے اب تک اس سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

یاد رہے کہ شمیمہ ان تین طالبات میں سے ایک ہے جو فروری 2015 میں بیتھنل گرین اکیڈمی سے فرار ہوئیں۔ ان طالبات نے داعش میں شمولیت کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا تھا۔

دیگر دو طالبات کے نام خدیجہ سلطانہ اور امیرہ عباس ہیں۔

دی ٹائمز اخبار کے مطابق بقیہ دونوں طالبات نے بھی داعشی جنگجوؤں سے شادیاں کیں۔ ان میں خدیجہ سلطانہ مئی 2016 میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں