.

سپاہ ِپاسداران انقلاب کی بس پر خود کش بم حملے کا جواب دیا جائے گا: ایرانی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر برائے سراغرسانی محمود علوی نے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے سپاہ پاسداران انقلاب کی بس پر خودکش بم حملے کا جواب دیا جائے گا اور یہ حملہ ’’ بلا جواب‘‘ نہیں رہنے دیا جائے گا۔

انھوں نے منگل کے روز بم دھماکے میں مارے گئے اہلکاروں کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی ہے اور اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم یقینی طوراس معاملے سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کریں گے ۔ایرانی عوام ہم سے یہی توقع کرتے ہیں‘‘۔

ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر محمود علوی نے کہا کہ ’’سپریم قومی سلامتی کونسل اس حملے کی تفصیل کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس کا بھرپور جواب دیا جاسکے‘‘۔

ایران کے صوبے سیستان ،بلوچستان میں گذشتہ ہفتے ایک خود کش بمبار نے سپاہِ پاسداران انقلاب کی ایک بس پر حملہ کیا تھا اور دھماکے کے نتیجے میں ستائیس اہلکار مارے گئے تھے۔سخت گیر سنی جنگجو گروپ جیش العدل نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس حملے کے فوری بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا اور اس کے علاقائی اتحادیوں پر اس میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ سپاہِ پاسداران انقلاب کے سربراہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر سیدھے سبھاؤ اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور ان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی تھی۔انھوں نے پاکستان کے سرحدی علاقے میں بھی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

دریں اثناء پاسداران انقلاب کی برّی فوج کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل محمد پاک پور نے کہا ہے کہ’’ خودکش بمبار کی شناخت ہوگئی ہے۔اس کا نام حافظ محمد علی تھا اور وہ پاکستانی شہری تھا‘‘۔پاک پور نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اس خودکش بم حملے میں کارفرما گروپ میں ایک اور پاکستانی شہری شامل تھا اور تین افراد صوبہ سیستان ، بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے۔

سپاہِ پاسداران انقلاب نے سوموار کو تین ’’دہشت گردوں‘‘ کی ا س بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔اس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ساراوان اور خش کے علاقے میں محفوظ گھروں کا سراغ لگا نے کے بعد انھیں ختم کردیا گیا ہے اور وہاں موجود دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے‘‘۔