.

پلوامہ میں سکیورٹی فورسز پر خودکش بم حملے کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا: بھارتی فوج کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ متنازع ریاست جموں وکشمیر کے ضلع پلوامہ میں گذشتہ جمعرات کو سکیورٹی فورسز کے قافلے پر تباہ کن خودکش بم حملے کا ماسٹر مائنڈ اپنے دو ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے۔

بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلوں نے منگل کے روز گرمائی دارالحکومت سری نگر میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ جیش محمد سے تعلق رکھنے والے تین جنگجو ایک جھڑپ میں مارے گئے ہیں ۔ان جنگجوؤں اور بھارتی فورسز کے درمیان جمعرات سے جھڑپ جاری تھی۔

بھارتی جنرل نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان مارے گئے جنگجوؤں میں دو کا تعلق پاکستان سے تھا۔ان میں ایک اس گروپ کی آپریشنز کمان کا سربراہ تھا۔انھوں نے یہ الزام عاید کیا ہے کہ اس حملے کی پاکستان میں منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر پاکستان نے بھارت کے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بھارت کے زیر انتظام ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں اور سری نگر کے درمیان مرکزی شاہراہ پر 78 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر خودکش بم حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں چالیس سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ایک مزاحمتی گروپ جیش محمد نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور یہ گذشتہ تین عشروں کے دوران میں مقبوضہ ریاست میں بھارتی فورسز پر تباہ کن حملوں میں سے ایک تھا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے جیش محمد پر 2002ء میں پابندی عاید کردی تھی اور اس کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

بھارتی فوج نے اس تباہ کن حملے کے بعد سے اس گروپ کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے۔سیکڑوں بھارتی فوجیوں نے حملے کی جگہ کے نزدیک واقع ایک گاؤں میں مزاحمت کاروں کے ٹھکانے پر چھاپا مار کارروائی کی تھی۔ان تینوں جنگجوؤں کے علاوہ جھڑپ میں پانچ سکیورٹی اہلکار وں سمیت چھے افراد مارے گئے ہیں۔ان میں چار بھارتی فوجی ، ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری تھا۔