آئندہ دو برسوں میں بھارت میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی : سعودی ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ متعدد اقتصادی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدے سیاحت، ہاؤسنگ اور تجارت کے شعبے سے متعلق ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بھارت اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اقتصادی تعلقات کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ " ہمیں آئندہ دو برسوں کے دوران بھارت کے اندر 100 ارب سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے مواقع نظر آ رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ اس سرمایہ کاری سے روزگار کے بہت سے مواقع جنم لیں گے"۔

بن سلمان نے مزید کہا کہ "بھارت اور سعودی عرب کے درمیان بہت سے مشترکہ مفادات ہیں جن کا تعلق ثقافت، سماج اور معیشت سے ہے۔ ہم ان مفادات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مطلوبہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی وضع کر رہے ہیں"۔

سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ مودی نے 2016 میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 2017 اور 2018 میں آئل ریفائننگ اور پیٹروکیمیکلز کے شعبے میں سرمایہ کاری ہوئی۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹکنالوجی کے شعبے اور چھوٹی کمپنیوں میں 10 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری دیکھی گئی"۔

معیشت کے شعبے میں سعودی عرب بھارت کا چوتھا بڑا شراکت دار ہے۔ مملکت اپنے تیل کا 20% بھارت کو برآمد کرتا ہے۔ بھارت سعودی مصنوعات کے لیے آٹھویں بڑی منڈی ہے۔

سعودی عرب کو بھارت میں 5 کروڑ افراد کی ہاؤسنگ اور 170 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں بھی شریک ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 25 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ مملکت میں مقیم بھارتی شہری ہر سال 10 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اپنے وطن بھیجتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان جاری اہم ترین منصوبوں میں 44 ارب ڈالر لاگت کی رتناگری آئل ریفائنری کا منصوبہ شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں