امریکا میں ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے قانون سازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے ساتھ مسلسل بڑھتی کشیدگی کے جلومیں امریکی کانگریس میں ایک نئے قانون کی منظوری پر کام جاری ہے جس کے بعد ایران کے خلاف طاقت کےاستعمال کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

امریکی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے سال 2019ء میں عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی قوتوں کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹ میں ایران میں القاعدہ کی سرگرمیوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2009ء سے ایران القاعدہ کے جنگجوئوں‌کے درمیان باہمی رابطہ کا موثر ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے راستے جنوبی ایشیا اور شام میں القاعدہ کے جنگجوئوں کی آمد روفت ممکن ہوئی۔ نیز ایران نے اپنے ملک میں موجود القاعدہ کے خطرناک جنگجوئوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانےمیں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

القاعدہ کے جنگجوئوں اور لیڈروں کو پناہ دینے اور اس کے لیے سہولت کاری کےعلاوہ خود مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے خطرہ بننے والے ایران کے خلاف امریکی انتظامیہ نے قانون سازی پرکام شروع کیا ہے تاکہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کی راہ ہموار کی جاسکے۔

نائن الیون کے حملے کے بعد امریکی کانگریس نےایک بل منظور کیا تھا جس میں صدر کو طالبان اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا اختیار دیا تھا تاہم موجودہ حالات میں سیاسی اور تزویراتی اسباب کی بناء پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دینا کافی پیچیدہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں