ایرانی سفارت خانہ عوام دوست حکومت کے حوالے کیے جانے کی امید رکھتے ہیں: برائن ہاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے برائن ہاک کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اس بات کے لیے پر امید ہے کہ ایک روز واشنگٹن میں ایرانی سفارت خانے کی چابیاں منتخب حکومت کے ذریعے ایرانی عوام کے حقیقی نمائندگان کے حوالے کی جائیں گی۔

امریکی وزارت خارجہ نے ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر برائن ہاک کا ایک ریکارڈ شدہ کلپ پوسٹ کیا ہے جس میں وہ واشنگٹن میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے سے بات کر رہے ہیں۔

ہاک نے کہا کہ "ہم نے چالیس برس تک اس ایرانی عمارت کی حفاظت کی تا کہ سفارتی تعلقات کی بحالی پر اسے ایرانی عوام کو واپس کیا جا سکے۔ آج ہم ایک ایسی حقیقی منتخب حکومت کو سفارت خانے کی چابیاں حوالے کرنے کی امید رکھتے ہیں جو ایک دقیانوسی نفرت انگیز انقلابی نظریے کی حامل نہ ہو بلکہ وہ ایران کے عظیم عوام کے مفادات اور امیدوں کی بنیاد پر قائم ہو"۔

امریکی نمائندے کے مطابق یہ سفارت خانہ ضرور کھولا جانا چاہیے جب کہ ایرانی آئینی انقلاب سے وابستہ وعدہ پورا ہو چکا ہو۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ "آخرکار عوام آزاد ہے ،،، وہ اپنے خصوصی قوانین کو اپنی جانب سے منتخب قیادت کے ساتھ اپنے فرزندان کے ہاتھوں لکھیں گے نہ کہ ایک بدعنوان مذہبی مافیا کے ساتھ"۔

واضح رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے برائن ہاک کو ایران کے لیے نمائندہ خاص کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ ایرانی اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے کارکنان کے ساتھ مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات اس حکمت عملی کے ضمن میں ہے جس کا مقصد ایرانی عوام کی آواز پر کان دھرنا ہے۔

ایرانی کارکنان نے باور کرایا ہے کہ مذکورہ اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ تمام اپوزیشن قوتوں کو یکجا کر کے ولایت فقیہ کے نظام کا متبادل جمہوری نظام تلاش کیا جائے۔ یہ متبادل نظام ایرانی معاشرے کے سیاسی ، قومی ، مذہبی اور ثقافتی حلقوں کو اپنے اندر سمیٹ لے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں