ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کشیدگی عروج پر ہے: حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ملکوں میں عشروں سے جاری تناؤ میں ایسی کشیدگی پہلے کبھی نہیں پائی گئی ۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت سخت کشمکش جاری ہے۔امریکا نے ہمارے خلاف تمام طاقت لگا دی ہے۔ اس سے قبل کم ہی ہمارے تعلقات ایسے کشیدہ ہوئے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے پولش دارالحکومت وارسا میں امریکا کے زیر اہتمام مشرق اوسط اور ایران کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکی ہے۔

ایران میں 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اس کے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ان میں گذشتہ سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد مزید دراڑ آئی تھی ۔ امریکی صدر نے اس جوہری سمجھوتے سے نکلنے کے بعد ایران کے خلاف نومبر میں دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

وارسا میں اس کانفرنس میں ساٹھ ملکوں سے تعلق رکھنے والے اعلی ٰ حکام نے شرکت کی تھی اور امریکا نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس سے ایران پر دباؤ بڑھانے میں مدد ملے گی لیکن جوہری سمجھوتے میں شامل تین بڑے یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔

فرانس ، برطانیہ اور جرمنی نے امریکا کے دباؤ کے باوجود ایرا ن سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد نہیں کیا ہے اور وہ اس کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔صدر حسن روحانی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’علاقائی پالیسیوں کے ضمن میں امریکا کی یہ ایک اور ناکامی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں