بدعنوانی اور سرکاری مال کی چوری کا الزام ، روحانی کے بھائی کے خلاف عدالتی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر حسن روحانی کے بھائی حسین فریدون کے خلاف عدالتی کارروائی منگل کے روز شروع ہو گئی۔ فریدون پر بدعنوانی اور سرکاری خزانے سے کروڑوں ڈالر چوری کرنے کے الزامات ہیں۔

ایرانی عدلیہ کے زیر انتظام نیوز ایجنسی میزان کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں فریدون اور ان کے چار ساتھی پیش ہوئے جہاں ان کو منسوب الزامات سے آگاہ کیا گیا۔

فریدون کو جو روحانی کے خصوصی مشیر کے منصب پر براجمان ہیں ،،، جولائی 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم جلد ہی وہ مالی ضمانت پر رہا ہو گئے اور اس کے بعد سے زیر تفتیش ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" کی جانب سے جاری ایک سابقہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حسین فریدون پر 1.5 کروڑ ڈالر کے غبن ، ایک بڑی اقتصادی بدعنوانی اور کئی بار رشوت لینے کے الزامات ہیں۔

ایرانی میں سخت گیر گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق رکن پارلیمںٹ علی رضا زاکانی نے ایرانی صدر حسن روحانی کے دفتر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ "بدعنوانی کے نیٹ ورک کا اڈہ" ہے۔ یہ دفتر روحانی کے بھائی فریدون چلا رہے ہیں۔ زاکانی نے انکشاف کیا تھا کہ "صدر روحانی کے بھائی نے صدارتی دفتر کو بروکروں کے دہشت پھیلانے والے گینگز کے اڈے میں تبدیل کر دیا ہے جو نیوکلیئر معاہدہ طے پا جانے کے بعد سے بیرون ملک رابطے کے ذریعے خوب مال بنارہے ہیں اور دھوکہ دہی ، رشوت اور بدعنوانی کے راستے خطیر رقوم حاصل کر رہے ہیں"۔

زاکانی نے صدر روحانی کو "بدعنوانی کی جڑ" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بدعنوانی کے انسداد کی مہم جوئی کرنے والے صدر کو چاہیے کہ وہ اس مہم کا آغاز اپنے بھائی اور ان کے دفتر سے کریں۔ انہوں نے کہا کہ روحانی وزارت تیل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور فرضی معاہدوں پر توجہ کریں۔

زاکانی نے روحانی کی حکومت کے ارکان پر تیل، مواصلات خزانہ اور دیگر وزارتوں میں بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ "بیژن زنگنہ (وزير تیل) ، سيروس ناصری (سابق مذاکرات کار) اور حسن فريدون (صدر روحانی کے بھائی) یہ تین افراد ہیں جو بدعنوانی کے اس وسیع نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں