ڈنمارک: ترک سفارت خانے پر حملے میں ملوّث چار شامیوں کو قید اور بے دخلی کی سزا کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈنمارک کی ایک عدالت نے چار شامی شہریوں کو دارالحکومت کوپن ہیگن میں گذشتہ سال ترکی کے سفارت خانے پر آتش گیر مواد پھینکنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر ڈیڑھ سے پونے دوسال جیل کی سزا سنائی ہے اور انھیں ملک سے بے دخل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ان چاروں شامیوں نے19 مارچ 2018ء کو ترک سفارت خانے پر پیٹرول بم سے حملہ کیا تھا جس سے ’’ قابلِ ذکر ‘‘ نقصان ہوا تھا۔ان چاروں مجرموں نے اپنی سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عدالت نے ان چار میں سے تین شامی تارکینِ وطن کو پونے دو ،دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔چوتھے کو ان سے تین ماہ کم ڈیڑھ سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔اس نے تفتیش کاروں سے تعاون کیا تھا جس کی بنا پر اس کی قید کی مدت میں تخفیف کر دی گئی ہے۔

ترک سفارت خانے پر ان کے حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا تھا ۔ البتہ اس سے عمارت کو نقصان پہنچا تھا ۔انھوں نے یہ حملہ شام کے شمال مغرب میں واقع شہر عفرین پر ترک فوج کے قبضے کے ایک روز بعد کیا تھا۔

حملے کے وقت یہ چاروں شامی کوپن ہیگن میں کرد کمیونٹی کے ساتھ رہ رہے تھے۔ان کی عمریں 19 اور 24 سال کے درمیان ہیں۔ان میں تین ڈنمارک میں عارضی اقامتی اجازت نامے کے تحت مقیم تھے۔انھوں نے مقدمے کی سماعت کے دوران میں اپنے جرم کا اقرار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ترک فوج کے کرد اکثریتی شہر عفرین پر حملے کی جانب دنیا کی توجہ مرکوز کرانا چاہتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں