ایران کی آبنائے ہرمز میں جمعہ سے ’’ولایت -97‘‘ سالانہ بحری مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی بحریہ نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز میں تین روزہ سالانہ جنگی مشقوں کا اعلان کیا ہے۔

آبنائے ہُرمز خلیجِ عرب کے دھانے پر واقع ہے اور اس کو عالمی توانائی کی بہم رسانی میں اہم گذرگاہ کی حیثیت حاصل ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے ایک تہائی تیل کی تجارت خلیج میں واقع اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کے ذریعے ہوتی ہے اور ایران کئی مرتبہ اس کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔و ہ اس آبی گذرگاہ میں وقفےو قفے سے جنگی بحری مشقیں کرتا رہتا ہے۔

ایرانی بحریہ کے ایڈمرل حسین خانزادہ نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ تین روزہ جنگی بحری مشقیں جمعہ کو شروع ہوں گی۔اس میں بحری آبدوزیں ، جنگی بحری جہاز ، ہیلی کاپٹرز اور نگرانی کرنے والے طیارے حصہ لیں گے۔ان مشقوں میں جنگی بحری جہازوں سے میزائل بھی چلائے جائیں گے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اتوار کو ملک میں تیار کردہ آبدوز کا افتتاح کیا تھا ۔یہ کروز میزائلوں سے لیس ہے۔

ایران یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکا کے دباؤ پر اس کی تیل کی برآمدات کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ بھی خطے کے کسی اور ملک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

تاہم پاسداران انقلاب کے پاس ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی مضبوط بحری بیڑا نہیں ہے۔ البتہ اس کے پاس تیز رفتار کشتیاں اور جہاز شکن گشتی میزائل لانچر ہیں اور وہ سمندر میں بارودی سرنگوں کی تنصیب کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں