بنگلہ دیش : دارالحکومت ڈھاکا کے قدیم حصے میں خوف ناک آتش زدگی ، 81 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے گنجان آباد قدیم حصے میں واقع ایک مصروف بازار میں آتش زدگی کے نتیجے میں اکاسی افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں بعض بُری طرح جھلس چکے ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

بنگلہ دیش کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ، بریگیڈئیر جنرل علی احمد نے بتایا ہے کہ ڈھاکا کےعلاقے چوک بازار میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک عمارت میں پہلے آگ لگی تھی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے پھر کئی دوسری عمارتوں اور دکانوں تک بھی پھیل گئی ۔

چوک بازار میں چار صدی قبل مغلیہ دور کی عمارتیں ابھی تک موجود ہیں اور ان کی چھتیں بالکل متصل ہیں یا تھوڑے تھوڑے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان کی نچلی منزلوں میں دکانیں یا گودام ہیں اور بالائی منازل میں لوگ اقامت گزین ہیں۔ بازار میں آگ پھیلنے کے بعد بہت سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کررہ گئے تھے اور انھیں وہاں سے باہر نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔

حسین نامی ایک دکان دار نے بتایا ہے کہ آگ اس کی دکان تک بھی پھیل گئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے شعلے بلند ہونے لگے اور دکان میں رکھا تمام سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ عینی شاہدین نے مقامی ٹی وی چینلوں کو بتایا ہے کہ ان عمارتوں میں بہت سے گیس سلنڈر بھی رکھے ہوئے تھے اور وہ آگ لگنے کے بعد یکے بعد دیگرے پھٹتے رہے تھے۔

آگ سے تباہ شدہ عمارتو ں کے سامنے ٹریفک میں پھنس جانے والی بعض گاڑیوں کے فیول ٹینک بھی دھماکے سے پھٹ گئے تھے اور ان کو آگ لگ گئی تھی۔ان گیس سلنڈروں کے دھماکوں سے بہت سے راہ گیر ، خریدار یا وہاں کھانا کھانے کے لیے آنے والے حضرات مارے گئے ہیں ۔

حکام نے بتایا ہے کہ آگ سے بہت سی لاشیں برح طرح جلی ہوئی ہیں اور وہ ناقابل شناخت ہوچکی ہیں۔ڈھاکا کی فائر سروسز کے ڈائریکٹر میجر اے کے ایم شکیل نواز نے بتایا ہے کہ لاشوں کو ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کردیا گیا ہے اور وہاں ان کے سوگوار لواحقین بھی موجود ہیں۔

آگ بجھانے والا عملہ اپنی گاڑیوں کے ساتھ چوک بازار میں تاخیر سے پہنچا تھا کیونکہ اس کے نزدیک واقع شاہراہیں ایک قومی تعطیل کے سلسلے میں بند تھیں۔ وہا ں سے صرف ایک میل کے فاصلے پر 1952ء میں بنگالی زبان بولنے کے حق میں احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ہلاک شدگان کی یاد گار پر ایک تقریب منعقد کی جارہی تھی۔ نصف شب کے فوری بعد بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے صدر کے ہمراہ اس یاد گار پر پھول چڑھائے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے ٹریفک جام تھا اور اس وجہ سے آگ بجھانے میں استعمال ہونے والے ٹرک بھی تاخیر سے پہنچے تھے۔

واضح رہے کہ چوک بازار میں پہلے بھی اس طرح کے آتش زدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں اور ان سے بڑی تعداد میں شہریوں کا جانی نقصان ہوا تھا اور کروڑوں ٹکا مالیت کی املاک کو نقصان پہنچا تھا ۔2010ء میں ایسے ہی ایک واقعے میں 123 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے بعد حکام نے اس علاقے میں واقع عمارتوں کو قواعد وضوابط کے تحت لانے کا وعدہ کیا تھا اور اقامتی عمارتوں سے کیمیائی مواد کے گوداموں کو ہٹا دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیشی حکومت نے گذشتہ سال مئی میں عید الفطر سے پہلے چوک بازار میں مقیم خاندانوں کو وہاں سے اٹھانے کی بھی کوشش کی تھی لیکن اس کو مکینوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں