بھارت اور سعودی عرب انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تعلقات ہزاروں سال پرمحیط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ خطرے کے تدارک کے لیے نئی دہلی اور ریاض انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کریں گے۔

اپنے دورہ بھارت کے دوران وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات اور متعدد معاہدوں کی منظوری کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سےخطاب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ اگرچہ ولی عہد کی حیثیت سے یہ بھارت کا میرا پہلا دورہ ہے مگر میں اس سے قبل بھی بھارت آ چکا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ہندوستان تعلقات کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ دونوں ممالک کے مفادات مشترک اور ایک دوسرے کے لیے بے پناہ مواقع ہیں۔ دونوں‌ممالک ثقافتی، سماجی، اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے۔

سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2016ء‌کو سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد 2017ء اور 2018ء کے دوران دونوں ملکوں نے پیٹرو کیمیکل کے شعبے میں وسیع پیمانےپر سرمایہ کاری کی۔ اس شعبے میں مزید مزید 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔

خیال رہےکہ آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری کے لیے بھارتی وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے کئی معاہدوں پر دستخط کے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں سعودی حکومت بھارت میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب اور بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ، سائبر سیکیورٹی اور بحری سلامتی کےلیے مل کر کام کرنے پر متفق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور بھارت دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک پر دبائو ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں