تاریخ کے آئینے میں : جب ترکی نے 15 ہزار کُردوں کو موت کے گھاٹ اتارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد سلطنت عثمانیہ نے معاہدہ سیورے (Treaty of Sèvres) پر دستخط کر دیے۔ اس کی رو سے عثمانیوں نے اپنی سابقہ املاک کے ایک اہم حصے سے دست برداری اختیار کر لی۔ ادھر اتحادی قوتوں نے اُس تمام اراضی سے عثمانیہ ریاست کو کھروچ ڈالنے کا ارادہ کیا جہاں ترک زبان نہ بولنے والے بستے تھے۔ مذکورہ معاہدے کے تیسرے حصے کی شق 62 اور 64 کے تحت کردوں نے بھی یہ وعدہ حاصل کر لیا کہ اناضول کے مشرق میں ان کے لیے ایک خود مختار وطن قائم کیا جائے گا۔

اسی دوران مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں متعدد قوم پرست ترکوں نے معاہدہ سیورے پر عمل درامد کو مسترد کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ترکی کو ایک جنگ لڑنا پڑی جس کا انجام معاہدہ لوزان کی صورت میں جولائی 1923 کو سامنے آیا جب کہ معاہدہ سیورے کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس طرح سلطنت عثمانیہ تحلیل ہو گئی اور اس کی جگہ جمہوریہ ترکی نے لے لی۔ معہادہ سیورے کے مقابلے میں معاہدہ لوزان نے کردستان ریاست کے قیام کے حوالے سے کردوں کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس لیے کہ نئے معاہدے میں کردوں کی ریاست کے وعدے سے بھی دست برداری اختیار کی لی گئی تھی۔

پہلی جنگ عظیم کے آغاز کے بعد سے کردوں نے عثمانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ بعد ازاں ترکی کی خود مختاری کی جنگ کے دوران مصطفی کمال اتاترک کردوں کے قریب آیا اور پھر حیران کن طور پر اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے 11 اکتوبر 1922 کو مودانیا کی جنگ بندی(Armistice of Mudanya) پر دستخط کر دیے۔

لوزان مذاکرات کے دوران اتاترک کے نمائندے عصمت اینونو نے اعلان کیا کہ ترکی کی حکومت اور کردوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ ترجمان نے فریقین کو ایک قوم قرار دیا۔

تاہم خود مختاری کی جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی وجود میں آنے والی ترکی کی نئی جمہوریہ نے کردوں کے وجود کو مسترد کر دیا۔ کردوں کو پہاڑوں پر بسنے والے ترک قرار دیا گیا اور پھر ان کی شناخت کو مسخ کرنے کے واسطے انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی کرد زبان سے دست بردار ہو کر اس کے بجائے ترک زبان میں گفتگو کریں۔ بہت سے کردوں کو ان کے نام تبدیل کر کے ترک زبان کے نام رکھنے پر مجبور کیا گیا۔ اسی مہم کے دوران فروری 1925 میں کردوں کی انقلابی تحریک بھڑک اٹھی جس کو اس وقت شیخ سعید بیران کے انقلاب کا نام دیا گیا۔

شیخ بیران نے کردوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول اور کردستان ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ترکوں کے خلاف بغاوت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ شیخ نے ترکی میں رہنے والے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں وجود پانے والے ترکی کے نئے نظام کے خلاف انقلاب میں شامل ہو جائیں۔ شیخ نے اتاترک پر اسلام کی شناخت روند دینے کا الزام عائد کیا۔ بعض کرد قبائل نے شیخ بیران کی انقلابی تحریک کا ساتھ دیا تو بعض نے ترکی کے ساتھ تنازع سے دور رہنے کو ترجیح دی۔ ترکی نے الزام عائد کیا کہ کردوں کی سپورٹ کے پیچھے برطانویوں کا ہاتھ ہے۔

انقلابی تحریک کے ابتدائی مرحلے میں 10 ہزار افراد پر مشتمل کرد فورسز نے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں انہوں نے ديار بكر شہر کو محاصرے میں لے لیا البتہ وہ ترکوں کی جانب سے گھمسان کی لڑائی کے باعث شہر میں داخل ہونے سے قاصر رہے۔

بعد ازاں ترک حکام نے بھاری ہتھیاروں سے لیس مزید کمک بھیجی تا کہ دیار بکر کا محاصرہ ختم کرایا جا سکے۔ اس طرح ایک وسیع عسکری آپریشن کے نتیجے میں کردوں کی انقلابی تحریک کو کچل دیا گیا۔ شیخ سعید بیران کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں جون 1925 کو شیخ بیران کو 52 ساتھویں سمیت پھانسی دے دی گئی۔

انقلابی تحریک کو کچلنے کے دوران ترکی کی فورسز نے 15 ہزار سے زیادہ کردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور 200 کے قریب کرد دیہات تباہ کر دیے گئے۔ ترک فوجیوں نے کردوں کی املاک کو لوٹ مار کا نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں ترک حکام نے ہزاروں کردوں کو ملک کے مغربی حصے کی جانب ہجرت پر مجبور کر دیا جب کہ بہت سے کرد خاندانوں نے شام میں فرانسیسیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں پناہ لی تا کہ ترکوں کی انتقامی کارروائیوں سے بچ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں