روس کے نئے میزائل ’فیصلہ سازی کے مراکز ‘کو نشانہ بنا سکتے ہیں: صدر پوتین کی دھمکی

روس کو دی جانے والی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو ہم بھی فوری ردعمل ظاہر کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

صدر ولادی میر پوتین نے دھمکی آمیز انداز میں کہا ہے کہ روس امریکا کی جانب سے یورپ میں مختصر یا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کا جواب دے گا اور وہ نہ صرف ان ممالک کو نشانہ بنائے گا جہاں یہ ہتھیار نصب کیے جائیں گے بلکہ وہ امریکا کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔

انھوں نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ سخت دھمکی آمیز پیغام بدھ کو قوم سے اپنے سالانہ خطاب میں دیا ہے ۔ روس اور امریکا کے درمیان ہتھیاروں کی ممکنہ نئی دوڑ کے حوالے سے اب تک ان کا یہ سخت بیان ہے۔صدر پوتین نے کہا کہ رو س محاذ آرائی نہیں چاہتا ہے اور وہ امریکا کے اسی ماہ سرد جنگ کے زمانے کے ہتھیاروں پر کنٹرول کے تاریخی معاہدے کو خیرباد کہنے کے ردعمل میں پہلے میزائل نصب نہیں کرے گا۔

لیکن انھوں نے خبردار کیا ہے کہ میزائل یا جوہری ہتھیاروں کی کسی بھی تنصیب کے جواب میں روس کا ردعمل بھر پور ہوگا ،اس لیے امریکا کے پالیسی سازوں کو کوئی بھی اقدام کرنے سے قبل خطرات کا جائزہ لے لینا چاہیے۔انھوں نے ان پالیسی سازوں کے بارے میں کہا کہ وہ امریکا کی توسیع پسندی ہی سے جنونیت کی حد تک جڑے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا:’’ یہ سوچنا ان کا حق ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں لیکن کیا وہ مضمرات کا اندازہ کرسکتے ہیں ، میرے خیال میں وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ اب انھیں ہمارے ان ہتھیاروں کے نظام کی رینج اور رفتار کا اندازہ کرنے دیجیے جو ہم تیار کررہے ہیں‘‘۔

صدر پوتین نے پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ روس ایسے ہتھیار تیار کرنے پر مجبور ہوگا جو نہ صرف ان علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں جہاں سے ہمارا لیے براہ راست خطرہ پیدا ہو گا بلکہ انھیں ان علاقوں پر بھی چلایا جاسکے گا جہاں فیصلہ سازی کے مراکز واقع ہیں‘‘۔

امریکا نے اسی ماہ روس پر 1987ء میں طے شدہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے ( آئی این ایف) کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا تھا اور اس معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا ۔اب وہ اس سے نکلنے کے بعد نئے میزائل تیار کرسکے گا۔

اس معاہدے کے تحت روس اور امریکا پر درمیانے اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی یورپ میں تنصیب پر پابندی تھی لیکن اب اس معاہدے کی موت کے بعد امریکا اور روس کے درمیان ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

روس نے اس تاریخی معاہدے کی خلاف ورزی کی تردید کی ہے۔صدر پوتین نے امریکا کی جانب سے اس معاہدے سے دستبردار ی پر اپنے ردعمل کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس بھی وہی کچھ کرے گا جو امریکا کرے گا۔

انھوں نے اپنی تقریر میں نئے میزائلوں کی تنصیب کا اعلان تو نہیں کیا ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ نئے میزائل نظاموں کے لیے رقوم موجودہ بجٹ ہی سے مہیا کی جانی چاہیے۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ ماسکو یورپ کی سرزمین یا کہیں بھی میزائل نصب نہیں کرے گا،الّا یہ کہ امریکا پہلے ایسا کرتا ہے تو پھر وہ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا کشیدگی کو بڑھاوا دیتا ہے تو وہ بھی ایسا کرنے کو تیار ہیں ۔ روس نے فعال انداز میں ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کا مقصد امریکا کے کسی بھی اقدام کے ردعمل میں اپنی بھرپور تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ اگر امریکا یورپ کی سرزمین پر نئے میزائل نصب کرتا ہے تو ماسکو کے پاس اس پر ردعمل کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ جائے گا کیونکہ اس سے امریکی میزائلوں کے روس میں پہنچنے کے وقت میں نمایاں کمی واقع ہوجائے گی اور یہ چیز ہمارے لیے براہ راست خطرے کا موجب ہوگی۔

صدر پوتین نے اس شعلہ نوائی کے بعد اپنے لب ولہجے میں نرمی کرتے ہوئے کہا کہ ’’روس امریکا کے ساتھ اچھے دوطرفہ تعلقات چاہتا ہے لیکن اگر ناگزیر ہوا تو وہ اپنے دفاع میں ردعمل کے لیے بھی تیار ہے۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ہمیں یہ کیسے کرنا ہے اور اگر ہمیں دی جانے والی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو ہم ان منصوبوں پر فوری طور پر ردعمل ظاہر کریں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں