ڈونلڈ ٹرمپ کا داعشی خاتون کو امریکا آنے سے روکنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے شام میں 'داعش' میں شامل ہونے والی ایک خاتون ھدیٰ مثنیٰ کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کرنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری طرف مثنٰی کے وکیل نے کہا ہے کہ ان کی موکلہ امریکا کی شہری ہیں اور صدر ٹرمپ اسے امریکا میں واپس آنے سے نہیں روک سکتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ'ٹویٹر' پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ میں نے وزیرخارجہ مائیک پومپیو کو حکم دیا ہے کہ وہ ھدیٰ مثنیٰ کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔ وزیرخارجہ بھی میرے اس فیصلے سے مکمل طورپر متفق ہیں۔ خیال رہے کہ ھدیٰ مثنٰی اس وقت شمال مشرقی شام کی ایک جیل میں قید ہے اور ان پر الزام ہے کہ وہ داعش میں شمولیت کے لیے امریکا سے شام چلی گئی تھی۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ھدیٰ مثنیٰ کی صرف امریکا میں پیدائش ہوئی ہے۔ اس کے پاس امریکی شہریت نہیں ہے تاہم مثنیٰ کے وکیل نے امریکی وزارت خارجہ کا دعویٰ رد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی موکلہ امریکا کی شہری ہیں اور ان کی پیدائش امریکی ریاست نیو جرسی میں ہوئی ہے۔

درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 24 سالہ ھدیٰ مثنیٰ امریکا شہری نہیں ہیں۔ اس کے پاس امریکی شہری ہونے کا کوئی قانونی ثبوت نہیں اور نہ ہی اس نے امریکا کی شہریت حاصل کی۔ اسے امریکا میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ ھدیٰ مثنیٰ کے کیس میں یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو روز قبل امریکی صدر نے مختلف ملکوں پر زور دیا تھا کہ وہ شام میں لڑنے کے لیے گئے اپنے اپنے جنگجوئوں کو واپس آنے کی اجازت دیں تاکہ شام کو دہشت گردوں کے چنگل سے نجات دلائی جاسکے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ھدیٰ مثنیٰ کے والدین یمنی نژاد امریکی ہیں۔ ھدیٰ کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس کی موکلہ 1994ء کو امریکی ریاست نیوجرسی میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد امریکا میں سفارت کار رہ چکے ہیں۔ امریکی قانون کے مطابق غیرملکی سفارت کاروں کی امریکا میں‌پیدا ہونے والی اولاد کو امریکی شہریت نہیں دی جاتی تاہم ھدیٰ کے والدین نے امریکی شہریت حاصل کرلی تھی۔ ھدیٰ سنہ 2014ء کو امریکا سے شام چلی گئی جہاں اس نے 'داعش' میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت وہ 'سیرن ڈیموکریٹک فورسز' کی قید میں ہے اور وہ واپس امریکا آنا چاہتی ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2014ء کے آخر میں ھدیٰ نے شام پہنچنے کے بعد "ٹویٹر" پر ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں چار خواتین اپنے مغربی پاسپورٹس کو نذرآتش کرتی دکھائی گئی تھیں۔ نذر آتش ہونے والے پاسپورٹس میں امریکی پاسپورٹ بھی شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں