.

شام میں قیام امن کے لیے 200 فوجی چھوڑیں گے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے کہا ہے کہ شام میں قیام امن میں مدد دینے کے لیے وہ کچھ فوجیوں کو شام سے واپس نہیں بلائے گا۔ وائیٹ ہائوس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام سے انخلاءکے بعد بھی 200 فوجی وہاں موجود رہیں گے۔

وائیٹ ہائوس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے ایک بیان میں کہا کہ شام میں فوج کا ایک چھوٹا سا گروپ موجود رہے گا۔ ان کی تعداد 200 ہوگی جو مزید کچھ عرصہ شام ہی میں قیام کریں گے۔

اسی سیاق میں ترک خبر رساں ادارے'اناطولیہ' نےاپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ٹیلیفون پر خطاب میں شام سے امریکی فوج کے انخلاء کو دونوں ملکوں کے مفاد میں قرار دینے پر اتفاق کیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ملکوں کے صدور نے دو طرفہ دلچسپی کے امور اور انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے پر بھی بات چیت کی گئی۔

دوسری جانب وائیٹ ہائوس کی طرف سے جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ اور طیب ایردوآن کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت کی تصدیق کی گئی ہے۔ وائیٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ ٹیلیفون پر بات چیت میں دونوں صدور نے شام میں'سیف زون' کےحوالے سےکوششوں اور اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کرنے سے اتفاق کیا۔

دونوں صدور کے درمیان یہ ٹیلیفونک رابطہ ایک ایسے وقت میں جب امریکا کے قائم مقام وزیرخارجہ پیٹرک شاناھان اور مسلح افواج کےسربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ اپنے ترک ہم منصبوں آج ملاقات کرنے والے ہیں۔