.

الجزائر: صدر بوتفلیقہ کی دوبارہ نامزدگی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب سے خود کو پانچویں بار صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں‌ نے صدر بوتفلیقہ سے دوبارہ الیکشن میں حصہ نہ لینے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ افریقی ملک الجزائر میں 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے خود کو امیدوار نامزد کیاہے۔ وہ اس وقت بھی صدر ہیں اور مسلسل چار بار ملک کے صدر منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگار نے بتایا کہ مظاہرین کی بڑی تعداد نے دارالحکومت الجزیرہ میں ایوان صدر کا گھیرائو کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیےان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی۔

نماز جمعہ کے بعد 'یکم مئی اسکوائر' میں ہزاروں افراد نے جمع ہو کر صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس کے بعد مظاہرین ایک ریلی کی شکل میں شاہرہ حسیبہ بن بوعلی مارچ کرتے ہوئے ایوان صدر کی طرف بڑھنے لگے۔ اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر واٹر کینن سے پانی پھینکا آنسوگیس کی شیلنگ کی۔

مظاہرین بہت زیادہ مشتعل دکھائی دیتے تھے اور انہوں نے 'گو تفلیقہ گو' کے نعرے لگائے۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے جن پر'عبدالعزیز بوتفلیقہ پانچویں بار صدر نا منظور' کے نعرے درج تھے۔

بعد ازاں یہ بڑی ریلی کئی الگ الگ ریلیوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ ان میں سے طلباء کے ایک گروپ نے ایوان صدر کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو انہیں مرکزی پوسٹ آفس اسکوائر کے قریب روک لیا گیا اورانہیں ریلی کا راستہ تبدیلی کرنے کو کہا گیا۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے ایوان صدر کو گھیرے میں لے لیا اور اس طرف آنے والے مظاہرین کو سختی سے روکا گیا۔