بھارت : ریاست آسام میں زہریلی شراب پینے سے 93 افراد ہلاک ، 200اسپتال داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں زہریلی شراب پینے سے ترانوے مزدور ہلاک اور کم سے کم دو سو زخمی ہوگئے ہیں۔

آسام کے دو اضلاع میں زہریلی شراب پینے سے گذشتہ دو روز میں یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ضلع گولاگھٹ کے ڈپٹی کمشنر ڈھیرن ہزاریکا نے بتایا ہے کہ ان کے ضلع میں زہریلی شراب پینے سے مرنے والوں کی تعداد اٹھاون ہوگئی ہے اور پچھتر متاثرہ افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ جمعرات کی شب غیر قانونی تیار شدہ شراب پینے کے بعد لوگوں کی حالت غیر ہونا شروع ہوگئی تھی۔

اس کے ساتھ واقع ضلع جورہٹ میں ایک مقامی عہدہ دار نے بتایا ہے کہ وہاں ’’ شاندار شراب‘‘ کے نام سے اس زہریلے مشروب سے پینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں واقعات میں مرنے والوں میں عورتیں بھی شامل ہیں ۔مہلوکین اور مجروحین نزدیک واقع چائے کے کھیتوں میں کام کرتے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال میں داخل بعض متاثرین کی حالت تشویش ناک ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔گولاگھٹ کے محکمہ صحت کے جائنٹ ڈائریکٹر رتل بوردولوئی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’’ متاثرہ افراد کو نہایت تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا ۔وہ قے پر قے کررہے تھے ،ان کے سینے میں درد تھا اور سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں‘‘ ۔

ریاست آسام کے وزیراعلیٰ سربانندا سونوال نے ان دونوں واقعات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ریاستی پولیس نے ایک شخص کو زہریلی شراب فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ آبکاری کے دو اہلکاروں کو زہریلی شراب کی فروخت روکنے کے لیے پیشگی حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر معطل کردیا گیا ہے۔

بعض میڈیا رپورٹس میں بے نامی ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی گئی ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے ہلاکتوں کی حقیقی تعداد کے تعیّن کی کوشش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں دیسی ساختہ سستی شراب کا ا ستعمال عام ہے ۔اس میں تیار کنندگان عام طورپر الکوحل کی انتہائی زہریلی شکل میتھانول کو ملا دیتے ہیں ۔ان کا مقصد اس شراب کو تیز کرنا ہوتا ہے لیکن ایسی شراب زیادہ مقدار میں پینے سے بندہ بینائی سے محروم ہوسکتا ہے ،اس کا جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور پھر اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

بھارت میں ہر سال ایسی دیسی ساختہ شراب پینے سے سیکڑوں ا فراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ آسام میں ان ہلاکتوں سے صرف دو ہفتے قبل دو شمالی ریاستوں اتر پردیش اور اتار کھنڈ میں زہر آلود شراب پینے سے کم سے کم ایک سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔بعض ریاستوں نے دیسی ساختہ شراب کی فروخت پابندی عاید کررکھی ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اس کی فروخت بند ہونے کے بجائے بڑھ گئی ہے کیونکہ اس کی تیاری پر کوئی سخت قدغن عاید نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں