سعودی عرب پاکستان کو تباہ کرنا چاہتا ہے: جنرل قاسم سلیمانی کا شوشہ

ہمیں پاکستان کی تعزیتوں کی ضرورت نہیں ،یہ ایران میں لوگوں کی کیا مدد کرسکتی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے سعودی عرب پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

انھوں نے ایران کے شمالی شہر بابل میں نماز جمعہ کے موقع پر ایک تندوتیز خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’ ہم پاکستان سے دوستانہ لہجے میں بات کررہے ہیں اور ہم اس ملک سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کو ہمسایہ ممالک میں عدم سلامتی کا ایک ذریعے نہ بننے دے۔جس کسی نے پاکستان کے لیے یہ سازش تیار کی ہے ، وہ اس ملک کو منتشر کرنا چاہتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران اپنے شہداء کا ان شرپسندوں سے انتقام لے گا،جنھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے،اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا :’’ ہم نے پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ یا تو ان علاقوں کو پاک کیا جائے جہاں دہشت گرد گروپ موجود ہیں یا پھر ان سے نمٹنے کے لیے ایرانی فورسز کو ان علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے‘‘۔

قاسم سلیمانی نے کہا کہ پاکستانی حکومت گذشتہ ہفتے بم دھماکے پر تعزیتی پیغام بھیجنے کے بجائے سعودی عرب اس کو جو رقم دے رہا ہے ،اس کو مملکت سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں سے نمٹنے میں صرف کرے۔

قاسم سلیمانی نے دھمکی آمیز انداز میں پاکستان سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’ آپ کے پاس جوہری بم ہیں ،تو کیا آپ خطے میں چند سو ارکان پر مشتمل دہشت گرد گروپ کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔دہشت گردی کی کارروائیوں میں آپ کے اپنے کتنے لوگ مارے گئے ہیں؟ہمیں آپ کی تعزیتوں کی ضرورت نہیں ،یہ تعزیت ایران میں لوگوں کی کیا مدد کرسکتی ہے؟‘‘

جنرل قاسم سلیمانی کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر یہ بلند بانگ دعوے کیے ہیں اور یہ تک کہنے سے گریز نہیں کیا کہ سعودی عرب پاکستان کو تقسیم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کررہا ہے اور خطے میں انتشار پھیلا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں پاکستانی عوام سے یہ کہتا ہوں کہ سعودی عرب کی نقدی ان کے ملک پر اثر انداز ہوئی ہے اور وہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے پاکستان کو تباہ کرنا چاہتا ہے‘‘۔

ان سے پہلے سپاہِ پاسداران انقلاب کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے بھی گذشتہ سوموار کو دھمکی دی تھی کہ اگر دہشت گردوں کی موجودگی کے مسئلے سے نہیں نمٹا جاتا تو ایران وقتِ ضرورت پاکستان میں مداخلت کرے گا۔

سپاہِ پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی ۔انھوں نے ان دونوں ممالک کے خلاف پاسدارانِ انقلاب کے فوجی کیمپ پر کار بم حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔ گذشتہ بدھ کے روز اس بم دھماکے کے نتیجے میں ستائیس اہلکار ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔

جنرل محمد علی جعفری نے جمعہ کی شب اس بم دھماکے میں ایک مہلوک کی اصفہان میں نماز جنازہ میں شرکت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ا سرائیل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اس بم حملے کا حکم دیا تھا مگر انھوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا تھا۔

ایک سنی جنگجو گروپ جیش العدل نے اس کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔یہ گروپ پاکستان کے ساتھ واقع ایران کے سرحدی علاقے میں برسرپیکار ہے۔اس کے بیان کے بعد اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا کہ ایران اب اس سرحدی علاقے میں کوئی فوجی کارروائی کرے گا۔

ایران نے سعودی عرب اور یو اے ای ہی پر الزام تراشی پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ اپنے مشرقی پڑوسی پاکستان کو بھی دھمکی دے ڈالی ہے کہ وہ اپنے سرحدی علاقے میں جنگجوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے ورنہ پھر ’’ دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے فوجی کارروائی کی توقع رکھے‘‘۔

سپاہ ِ پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد علی جعفری نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا کہ ’’ اگر پاکستان اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کرتا ہے تو ایران بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر اپنی سرحد پر موجود خطرات سے نمٹنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور وہ دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے جوابی کارروائی کرے گا‘‘۔

واضح رہے کہ ایران ماضی میں بھی سعودی عرب پر سنی جنگجو گروپوں کی حمایت کے الزامات عاید کر چکا ہے۔الریاض ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا ان گروپوں سے کوئی لینا دینا نہیں اور ایران کی طرح دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مسلح مداخلت کی پالیسی کا حامل نہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں