شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے طاقت کا خلا پیدا نہیں ہونا چاہیے : ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تر کی کے وزیر دفاع حلوسی عکار نے کہا ہے کہ امریکا کو شام میں اپنے فوجیوں کے انخلا سے طاقت کا خلا پیدا نہیں کرنا چاہیے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی انا طولو کے مطابق وزیر دفاع حلوسی عکار نے امریکا میں قائم وزیر دفاع پیٹرک شناہن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے :’’ ہم اپنے شراکت داروں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ شام سے انخلا کے وقت کسی بھی طرح سے طاقت کا خلا نہیں ہونا چاہیے‘‘۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدے دار نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا شام میں اپنے چار سو فوجی برقرار رکھے گا اور انھیں شام کے دو علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں شام سے اپنے تما م دو ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کاا علان کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہاں داعش شکست سے دوچا ر ہوچکے ہیں۔

ان کے اس اچانک فیصلے کی امریکا کے اتحادی مغربی ممالک نے حمایت نہیں کی تھی اور ان کے علاوہ امریکی کانگریس کے ارکان نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی تھی لیکن انھیں اب امریکی حکام نے کم سے کم دو سو فوجی شام ہی میں برقرار رکھنے پر آمادہ کر لیا ہے۔ وہ یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے آٹھ سو سے ڈیڑھ ہزار تک فوجیوں کے ساتھ مل کر شام کے شمال مغربی علاقے میں ’’سیف زون‘‘ کی نگرانی کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔

حلوسی عکار نے امریکی حکام کے ساتھ گفتگو میں کرد ملیشیا وائی پی جی کے حوالے سے ترکی کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ اس کو ’’سیف زون ‘‘ سے نکال باہر کیا جائے۔ واضح رہے کہ ترکی وائی پی جی کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) ہی کی توسیع شدہ شکل قرار دیتا ہے اور اس نے اس ملیشیا کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں